اجلاس کے دوران وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سرمایہ کاری، ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے جامع اور دور رس معاشی پالیسیوں پر عملدرآمد جاری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ اقتصادی سرگرمیوں کی مؤثر منصوبہ بندی میں نجی شعبے کا کلیدی کردار ہے اور ان کی بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کریں تاکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید سازگار بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ مثبت معاشی رجحانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد بحال ہو رہا ہے، جو ایک حوصلہ افزا پیشرفت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ شفافیت، بین الاقوامی معیار کے مطابق معاشی پالیسیوں کی تشکیل اور ان پالیسیوں پر فوری عملدرآمد کے ذریعے پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاری کا پرکشش مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی معیشت اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے اجلاس
— Prime Minister s Office (@PakPMO) October 4, 2025
اجلاس میں مجموعی اقتصادی صورتحال، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
"شفافیت، بین الاقوامی معیار کے مطابق… pic.twitter.com/2sdQueqKHw
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ تجارت کے فروغ کو بھی اپنی پالیسی کا اہم جزو سمجھتی ہے، تاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو اور صنعتی ترقی کو تقویت ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاری معاشی اور اقتصادی اصلاحات کی بدولت معیشت ایک نئی سمت میں گامزن ہے اور حکومت کی پالیسیوں میں شامل جدت اور شفافیت نے ترقی کے دروازے کھول دیے ہیں۔
اجلاس میں توانائی، انفراسٹرکچر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبے میں جاری منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ان منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے اور ان کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچانے کی ہدایت جاری کی۔
اجلاس میں شریک کئی اہم وزرا شریک ہوئے جن میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
وزیراعظم نے تمام شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں سرمایہ کار دوست پالیسیاں اپنائیں اور عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں تاکہ پاکستان کی معیشت مستقل ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔






