مظفرآباد میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انڈیا جس زبان میں بات کرے گا، پاکستان اسی زبان میں جواب دے گا۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں انڈیا کو ایسی شکست دی گئی جسے وہ نسلوں تک یاد رکھے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کے لیے آزاد کشمیر پہنچے ہیں۔ پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیری عوام روزانہ دنیا کے سامنے اپنی جدوجہد کی سچائی آشکار کر رہے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں کسی بھی جماعت کی حکومت ہو، وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ مکمل تعاون کرے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں آنے دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ تحریکِ آزادی کے شہدا کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔ کشمیر کی آزادی پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے دہشت گردی اور پراکسی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں، تاہم انڈیا جس محاذ پر بھی جارحیت کرے گا، اسے اسی محاذ پر بھرپور اور یادگار جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں انڈیا کا غرور خاک میں ملا اور اس بدترین شکست کے بعد انڈیا سفارتی محاذ پر بھی ناکام ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی دراصل کشمیری عوام کی بھی فتح ہے، جس سے مسئلۂ کشمیر ایک بار پھر عالمی سطح پر پوری قوت کے ساتھ اجاگر ہوا ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ انڈیا کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر امن صرف برابری اور انصاف کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی اتحاد اور اتفاق کے ذریعے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔

وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کو بھی دہرایا اور غزہ میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا۔