برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نجی سطح پر ایسی بات چیت ہوئی ہے، جس میں پسنی کو ایک نئی بندرگاہ کے طور پر ترقی دینے کا تصور پیش کیا گیا، جو پاکستان کے معدنی وسائل کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے میں مدد دے سکتا ہے۔ پسنی بحیرہ عرب کے کنارے واقع ہے، جو ایران سے تقریباً 160 کلومیٹر اور چین کی مدد سے تعمیر ہونے والی گوادر بندرگاہ سے 112 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے — یہی جغرافیائی اہمیت اسے خطے کی سیاست میں نمایاں بناتی ہے۔ پاکستان کے ایک اعلیٰ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس عہدیدار نے پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تجاویز حکومت یا فوج کی کسی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتیں۔ عہدیدار نے کہا کہ پسنی کی سیکیورٹی کسی غیر ملکی طاقت کے حوالے کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ نجی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت صرف ابتدائی نوعیت کی تھی، سرکاری سطح پر نہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کا اس معاملے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ آرمی چیف کے کسی معاملے پر کوئی باضابطہ مشیر نہیں ہیں، اس طرح کی تجاویز کو براہ راست ان سے جوڑنا غلط تاثر ہے۔

واضح رہے کہ یہ وضاحت ان خبروں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان امریکا کو معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پسنی کو گوادر میں چین کے اثر و رسوخ کے مقابل ایک ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ نجی یا تجارتی حلقوں نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں، لیکن انہیں نہ تو باضابطہ طور پر جمع کرایا گیا ہے اور نہ ہی کسی اسٹریٹجک سطح پر زیر غور لایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی امریکا کو پسنی میں بندرگاہ بنانے کی پیشکش

خیال رہے کہ پسنی، جو تقریباً 70 ہزار آبادی پر مشتمل ایک ماہی گیر قصبہ ہے، طویل عرصے سے اپنی گہرے پانی کی بندرگاہ کے امکانات کے باعث توجہ کا مرکز رہا ہے، تاہم فی الحال حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ صرف ایک خیال ہے، منصوبہ نہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ پسنی کا محلِ وقوع یقیناً اہم ہے، مگر اس وقت یہ محض ایک تصور ہے، کوئی عملی اقدام نہیں۔ یاد رہے کہ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب پاکستان واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے ساتھ تعلقات میں نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر رہا ہے کہ فوج کسی خفیہ معاہدے پر کام کر رہی ہے۔