مراد علی شاہ نے دی کڈنی سینٹر کے لیے صوبائی معاونت میں نمایاں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے نئے کارڈیک کیتھیٹرائزیشن (کیتھ) لیب کے قیام کے لیے فنڈنگ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے خلاف سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے قومی سلامتی، پولیسنگ اور سیاسی معاملات پر بھی تفصیلی اظہار خیال کیا۔

وزیراعلیٰ نے دی کڈنی سینٹر میں میڈیا سے گفتگو اور تقریب سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے سندھ حکومت کے تعاون سے قائم نئے انٹینسو کیئر یونٹ (آئی سی یو) کا افتتاح کیا۔

تقریب میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور اسپتال انتظامیہ شریک تھی۔

مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال سے دی کڈنی سینٹر کے لیے سالانہ گرانٹ 30 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی جائے گی۔

انہوں نے اسپتال میں کیتھ لیب کے قیام کے لیے مکمل فنڈنگ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود اس کا افتتاح کرنے واپس آئیں گے۔ سندھ حکومت معتبر غیر منافع بخش اداروں کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کام کرنے پر فخر محسوس کرتی ہے۔

وزیرِاعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم مخلص شراکت داروں کے ساتھ نتائج مزید بہتر ہوتے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اس ادارے کو ماضی میں بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی جانب سے بھی معاونت حاصل رہی، جو اس کی قومی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔ سندھ حکومت صحت کے شعبے میں 100 ارب روپے سے زائد کی گرانٹس فراہم کر رہی ہے۔

علاقائی سلامتی پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے اندھیرے کی آڑ میں حملے کی کوشش کی گئی جسے مؤثر انداز میں ناکام بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی مشرقی یا مغربی سرحدوں پر بری نظر ڈالنے والوں کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کشیدگی برقرار رہی اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر احتیاطی اقدامات کیے گئے۔ افغان شہریوں سے متعلق اقدامات بھی قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق جاری رہیں گے۔

عمرکوٹ میں پولیس کارروائی کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ آپریشن عدالتی احکامات کے تحت کیا گیا، تاہم پولیس کا طرزِ عمل قابل قبول نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر صوبائی وزرائے داخلہ اور تعلیم سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ سندھ حکومت کسی بھی قسم کی زیادتی، خصوصاً خواتین سے متعلق، ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’غضبُ الحق‘ کے دوران اب تک 274 طالبان اہلکار ہلاک، 400 سے زائد زخمی: ڈی جی آئی ایس پی آر

سیاسی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کو جو مؤقف اختیار کرنا ہے کرے، تاہم بعض بیانات ناقابل قبول ہیں۔ سندھ اسمبلی کا واضح مؤقف صدر اور وزیر اعظم تک پہنچایا جا چکا ہے۔

انہوں نے آصف علی زرداری کے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹے بیانیے دانستہ طور پر پھیلائے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے بعض ٹی وی چینلز اور صحافیوں پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً ماہ رمضان میں ذمہ دار صحافت کا مظاہرہ کیا جائے۔

انہوں نے گورنر کی تبدیلی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں متعدد بڑے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے کراچی پریس کلب کے باہر تنخواہوں کے مطالبے پر احتجاج کرنے والوں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔

اختتام پر وزیراعلیٰ نے صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، عوامی فلاح کے فروغ، قومی سلامتی کے تحفظ اور ذمہ دار صحافت کے عزم کا اعادہ کیا۔