پٹرول باقی پاکستان سے 10 سے 15 روپے فی لیٹر سستا ہے کیونکہ وہاں پیٹرولیم لیوی کا اطلاق مختلف انداز میں ہوتا ہے۔
جی ہاں میں بات کر رہا ہوں آزاد کشمیر کی — پاکستان کا وہ حصہ جہاں زندگی کی بنیادی چیزوں کی قیمتیں باقی ملک سے بالکل مختلف ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ فرق کیوں — اور کیسے
آزاد کشمیر کی زمین پر دو بڑے ڈیم ہیں۔ منگلا ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ۔ منگلا ڈیم سے تقریباً ایک ہزار میگاواٹ بجلی بنتی ہے۔ نیلم جہلم سے 969 میگاواٹ۔ یہ بجلی نیشنل گرڈ میں جاتی ہے یعنی پورے پاکستان کو ملتی ہے۔
لیکن آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ ایک معاہدہ ہے۔ چونکہ یہ ڈیم ان کی زمین پر ہیں، ان کے دریاؤں پر ہیں — اس لیے انہیں رویلٹی کے طور پر سستی بجلی دی جاتی ہے۔ یہ سبسڈی نہیں، یہ ان کے وسائل کا حق ہے۔
اب وہ سوال جو باقی پاکستانیوں کو رات دن سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم تربیلا ڈیم ہے جوکہ خیبر پختونخوا میں ہے —، 4500 میگاواٹ بجلی۔
اس کے علاوہ وارسک ڈیم ہے، غازی بروتھا ہے، درجنوں چھوٹے بڑے پراجیکٹس ہیں۔ لیکن کے پی کے میں بجلی سستی نہیں۔ وہاں کا عام آدمی بھی وہی 50 روپے یونٹ دے رہا ہے۔ بلوچستان میں قدرتی گیس کے سب سے بڑے ذخائر ہیں — لیکن بلوچستان کے کئی علاقوں میں آج بھی گیس نہیں پہنچی۔
سندھ میں تھر کا کوئلہ ہے جس سے اب بجلی بن رہی ہے — لیکن سندھ کے دیہاتوں میں 12 سے 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہے۔
یعنی پاکستان میں اصول یہ ہے کہ وسائل جہاں ہوں — فائدہ وہاں نہ ہو۔ آزاد کشمیر نے اپنے وسائل کا حق لیا اور وہاں کا عام آدمی سستی بجلی استعمال کر رہا ہے۔ باقی صوبوں کا عام آدمی اپنی ہی زمین کے وسائل سے بنی بجلی مہنگے داموں خرید رہا ہے۔
یہ غربت کا مسئلہ نہیں — یہ نظام کا مسئلہ ہے۔ اب آپ بتائیں — اگر آپ کے علاقے میں وسائل ہوں اور فائدہ کہیں اور جائے تو آپ کیا کریں گے؟






