قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو غیر معمولی عزت و وقار سے نوازا ہے، اور یہ اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک نے عالمی سطح پر سفارتی محاذ پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے میں پاکستان نے جس ثالثی اور سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، پاکستان نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی عملی اقدامات کیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً جاپان سے لے کر سعودی عرب تک اور مشرق سے لے کر بھارت سمیت پوری دنیا میں آج پاکستان کا نام احترام کے ساتھ لیا جا رہا ہے، یہ لمحہ پاکستانی قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ عالم میں کسی ملک کو اس طرح کی سفارتی پذیرائی صدیوں بعد نصیب ہوتی ہے، مگر پاکستان نے مختصر وقت میں یہ مقام حاصل کیا ہے۔ وزیراعظم نے اس پیشرفت کو پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آئندہ بھی امن، مکالمے اور خطے میں استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور اسے قومی سطح پر قابلِ فخر پیشرفت قرار دیا
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جو عزت اور وقار عطا کیا ہے، اس پر پوری قوم کو شکر ادا کرنا چاہیے، حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو قومی وحدت اور اجتماعی محنت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پورا عمل آسان نہیں تھا اور اس دوران کئی ایسے مراحل آئے جب معاملات تعطل کا شکار محسوس ہوئے، تاہم مسلسل رابطوں، سنجیدہ مذاکرات اور خلوصِ نیت کے ساتھ کوششیں جاری رکھی گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس پیشرفت میں مختلف سیاسی و ریاستی اداروں نے مل کر کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے ایک بڑی سفارتی کامیابی ممکن ہوئی، اس عمل میں نہ صرف حکومت بلکہ تمام متعلقہ حلقوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آئندہ بھی خطے میں امن، استحکام اور سفارتی توازن کے لیے مثبت اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
مزید پڑھیں: بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، اس کے سنگین نتائج ہونگے: اسحاق ڈار
قومی اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ان کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال، پاکستان کے کردار اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ ان کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے تقریباً آدھے گھنٹے طویل گفتگو ہوئی، جس میں ایرانی صدر نے مشکل وقت میں پاکستان کے بھرپور تعاون اور یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان نے اس نازک صورتحال میں ایران کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہو کر اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم کے مطابق ایرانی صدر نے پاکستانی قوم کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور اس بات کو سراہا کہ پاکستان نے خلوص اور سفارتی ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جس پر ایرانی صدر نے جلد پاکستان آنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ پاکستانی عوام کا خود آ کر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، ایران کے اعلیٰ رہنما علی خامنائی کا بھی ذکر ہوا، اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور باہمی احترام کو اجاگر کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن، سفارتکاری اور برادرانہ تعلقات کے فروغ کے لیے اپنا کردار آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گا
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ بندی کے بعد معاشی حالات میں بہتری آ رہی ہے، تیل کی قیمتوں میں کمی شروع ہو چکی ہے اور مستقبل میں مزید ریلیف کی توقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان شاءاللہ آئندہ آنے والے وقتوں میں پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ مزید قریبی تعاون کے ذریعے معاشی خوشحالی کی طرف بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد خطے میں استحکام کی فضا قائم ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔







