یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے گزشتہ روز مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرینی وفد امریکی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرے گا اور یورپی حکام کی بھی مذاکرات میں شمولیت متوقع ہے۔

یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب روسی حملوں میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور موسمِ سرما سے پہلے جنگ روکنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

میامی مذاکرات میں کون شریک ہوگا؟

زیلنسکی کے مطابق یوکرین کی جانب سے صدارتی چیف آف اسٹاف کیریلو بودانوف، رستم عمروف، سرگئی کِسلیتسیا اور ڈیوڈ آراخامیا مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

امریکی وفد کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے قومی سلامتی کے مشیروں کے علاوہ یورپی یونین اور نیٹو کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

مذاکرات میں یوکرین کے لیے مستقبل کی سکیورٹی ضمانتوں، جنگ کے بعد تعمیرِ نو اور تنازع ختم کرنے کے لیے ممکنہ تجاویز پر غور متوقع ہے۔ ایک تجویز محدود جنگ بندی سے متعلق بھی ہے، جس کا اطلاق بحیرۂ اسود میں جہاز رانی یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ روس ان مذاکرات میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا، اس لیے یہ واضح نہیں کہ میامی میں ہونے والی بات چیت کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کا راستہ کھول سکے گی یا نہیں۔

روسی حملوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک

مذاکرات سے قبل یوکرین میں روسی حملوں کی ایک نئی لہر نے شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق مشرقی شہر کراماتورسک میں مسافر بسوں کے قریب روسی حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد علاقے میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل کردی گئی۔

اس سے ایک روز پہلے شمالی علاقے چرنیہیو کے شہر پریلوکی میں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے، جن میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔

زیلنسکی کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران روسی حملوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ یوکرین نے ان حملوں کے بعد فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور روس پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

زیلنسکی امریکا سے ناراض کیوں ہیں؟

زیلنسکی نے امریکی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن روس کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے مطلوبہ دباؤ نہیں ڈال رہا۔ انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک تک رسائی بڑھانے میں مدد دی جائے۔

زیلنسکی کے مطابق اس سے یوکرین کو روسی بیلسٹک میزائل لانچ کرنے والے نظاموں کا سراغ لگانے اور اپنے فضائی دفاع کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

زیلنسکی نے سوال اٹھایا کہ اگر امریکا دوسرے تنازعات میں اسٹارلنک کی سہولت فراہم کرسکتا ہے تو یوکرین کو دفاع کے لیے یہ مدد کیوں نہیں دی جارہی؟ انہوں نے واشنگٹن پر روس کے خلاف مؤثر دباؤ ڈالنے میں ہچکچاہٹ کا الزام بھی عائد کیا۔

کیا جنگ واقعی تعطل کا شکار ہے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا تھا کہ روس اور یوکرین کی جنگ ایک خطرناک تعطل کا شکار ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی اس تجزیے سے اتفاق کیا اور کہا کہ فی الحال پیوٹن، زیلنسکی اور ٹرمپ کے درمیان سہ فریقی سربراہی اجلاس کے فوری امکانات نظر نہیں آتے۔

دوسری جانب زیلنسکی نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف روس کے ساتھ مستقبل کے اقتصادی منصوبوں پر بات چیت کرنا اور دوسری طرف سفارتی تعطل کا دعویٰ کرنا متضاد ہے۔ یوکرین سفارتی طور پر کسی بند گلی میں نہیں پہنچا۔

یوکرینی صدر نے روسی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ بھی کیا، جسے ان کے حکام میامی مذاکرات میں امریکی نمائندوں کے سامنے اٹھا سکتے ہیں۔

میامی مذاکرات جنگ بندی کا راستہ بن سکتے ہیں؟

میامی ملاقات کا بنیادی مقصد امریکی، یوکرینی اور یورپی تجاویز کو یکجا کرکے ایسا راستہ تلاش کرنا ہے جس سے جنگ بندی یا کسی وسیع تر معاہدے کی بنیاد رکھی جاسکے۔

یوکرین چاہتا ہے کہ جنگ روکنے کے لیے اسے قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتیں ملیں اور روسی حملوں کو محدود کرنے کے عملی اقدامات کیے جائیں۔ یورپی ممالک بھی اس عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، کیونکہ جنگ کے مستقبل کا براہِ راست اثر یورپ کی سلامتی، توانائی کی قیمتوں اور دفاعی پالیسیوں پر پڑتا ہے۔

لیکن روس کی عدم شرکت، جنگ کے خاتمے کی شرائط پر اختلافات اور یوکرین کی سکیورٹی سے متعلق خدشات بدستور بڑی رکاوٹیں ہیں۔

فی الحال میامی مذاکرات ایک نئی سفارتی کوشش ہیں، جنگ کے خاتمے کا طے شدہ معاہدہ نہیں۔ ان کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکا، یوکرین اور یورپی ممالک کس حد تک مشترکہ تجاویز پر اتفاق کرسکتے ہیں اور آیا روس ان تجاویز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگا یا نہیں۔