وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعلیٰ کو منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ رحمت کارڈ کے ذریعے معاشی طور پر کمزور اور بے آسرا خاندانوں کو مالی سہارا فراہم کیا جائے گا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت مستحق بیوگان کو ایک لاکھ روپے تک مالی امداد دی جائے گی جبکہ یتیم بچوں کو 25،25 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقات کو مالی تحفظ فراہم کرنا اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔

حکام نے مزید بتایا کہ رحمت کارڈ منصوبہ پہلے مرحلے میں 50 ہزار سے زائد بے آسرا اور مستحق گھرانوں کو معاشی سہارا فراہم کرے گا۔ اس اقدام کو پنجاب حکومت کی سماجی فلاح و بہبود کی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ منصوبے کا باضابطہ آغاز عید کے فوراً بعد کیا جائے گا۔ اس پروگرام میں رجسٹریشن کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں موبائل ایپلی کیشن، ویب پورٹل، کال سینٹر اور زکوٰۃ آفس کے ذریعے درخواست دینے کی سہولت شامل ہوگی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بیوہ اب محتاج نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیوگان کو خیرات نہیں بلکہ ان کا باوقار حق فراہم کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو

مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب کے وسائل پر صوبے کے ہر شہری کا حق ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حقدار افراد تک ان کا حق پہنچ سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبے کو شفاف اور مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق رحمت کارڈ منصوبہ صوبے میں سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے اور اس کے ذریعے بیوگان اور یتیم بچوں کی مالی مشکلات میں نمایاں کمی لانے کی امید کی جا رہی ہے۔