رپورٹ کے مطابق پنجاب 15,376 کیسز کے ساتھ سرفہرست رہا, پنجاب میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی زیادہ تعداد اس بات کی عکاس ہے کہ صوبے میں رپورٹنگ کا نظام دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فعال، مربوط اور مضبوط ہے۔ سندھ میں 3,709، خیبر پختونخوا میں 875، اسلام آباد میں 423 جبکہ بلوچستان میں 315 واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رپورٹنگ کا زیادہ ہونا دراصل انسدادِ تشدد کے نظام پر عوام کے بڑھتے اعتماد اور اداروں کی بہتر رسائی کا ثبوت ہے۔
رپورٹ کے مطابق کیسز میں ریپ، اغوا، غیرت کے نام پر قتل، ہراسگی، سائبر کرائم، گھریلو تشدد اور جسمانی تشدد جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔
ایس ایس ڈی او کی رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملک بھر میں سزا کی مجموعی شرح 0.3 فیصد سے بھی کم رہی۔ پنجاب میں سزا کی شرح اگرچہ 0.01 فیصد ریکارڈ ہوئی، تاہم پنجاب میں زیادہ کیسز کا رپورٹ ہونا، تفتیش اور پراسیکیوشن کے بوجھ میں اضافے کا سبب بنتا ہے, جس کے باعث اس نظام کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
سندھ میں سزا کی شرح 0.5 فیصد، جب کہ خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں کسی ایک بھی کیس میں سزا نہیں ہو سکی۔ بلوچستان میں سزا کی شرح 19.30 فیصد ضرور ہے، لیکن رپورٹنگ کا حجم بہت کم ہونے کے باعث یہ شرح مجموعی تصویر کی درست ترجمانی نہیں کرتی۔
اس موقع پر ایس ایس ڈی او نے کہا کہ پنجاب اگرچہ رپورٹنگ، پولیس رسائی اور ادارہ جاتی کوآرڈی نیشن میں ملکی سطح پر سب سے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، لیکن مؤثر انصاف کے لیے تفتیش، پراسیکیوشن اور عدالتی عمل کو مزید تیز اور جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ تاخیر، کمزور شواہد اور پراسیکیوشن میں خلا انصاف میں رکاوٹ بنتے ہیں، جنہیں ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کی ضرورت ہے۔
ایس ایس ڈی او نے قومی سطح پر اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کو بروقت تفتیش، جدید تربیت، بہتر شواہد اکٹھا کرنے کے نظام اور متاثرہ خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی پر توجہ دینا ہوگی۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر
تنظیم کے مطابق پنجاب کی مثال یہ واضح کرتی ہے کہ بہتر رپورٹنگ سسٹم ہی مسئلے کو چھپانے کے بجائے سامنے لاتا ہے اور یہ رجحان دیگر صوبوں کے لیے قابلِ تقلید ہے۔
قومی فیکٹ شیٹ حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا اور پالیسی ساز اداروں کے لیے ایک اہم اور مستند دستاویز ہے جو ملک میں خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور موثر قانون سازی میں رہنمائی فراہم کرے گی۔







