دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان نے ابھی تک آئی ایس ایف میں شرکت کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، بعض دارالحکومتوں میں اس فورس کے حوالے سے مشاورت ہو رہی ہے، تاہم پاکستان کو فوجی تعیناتی کے لیے کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں اس معاملے پر قیاس آرائیاں اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ واشنگٹن اسلام آباد پر غزہ استحکام فورس میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان قیاس آرائیوں کو اس وقت مزید تقویت ملی جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر آئندہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جا سکتے ہیں، جہاں غزہ استحکام فورس زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
Weekly Press Briefing by the Spokesperson @TahirAndrabi
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) December 18, 2025
On the International Stabilisation Force for Gaza pic.twitter.com/jqNtoYFmKC
اس رپورٹ سے متعلق سوال پر دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے کسی ایسے دورے کو تاحال حتمی شکل نہیں دی گئی۔ اگر کسی سرکاری دورے کا فیصلہ ہوتا ہے تو اس کا باضابطہ اعلان حکومت پاکستان کی جانب سے کیا جاتا ہے، جو اس معاملے میں نہیں ہوا۔
ترجمان نے روئٹرز کی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ کسی دورے یا ملاقات پر حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کے بیرونی دورے معمول کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن ان کی تصدیق صرف سرکاری اعلان کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔
لازمی پڑھیں: انڈیا دریاؤں کے بہاؤ میں یکطرفہ مداخلت بند اور عالمی قوانین کی پاسداری کرے، پاکستان
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی صدر اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان کسی مجوزہ ملاقات کی تردید کی ہے۔ امریکی صدارتی دفتر کے ایک اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ کے شیڈول میں اس وقت ایسی کسی ملاقات کا اندراج موجود نہیں۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آئی ایس ایف سے متعلق بات چیت جاری ہے، تاہم پاکستان نے نہ تو فوجیوں کی تعیناتی کا کوئی فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کسی رسمی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے۔







