خبر ایجنسی روئٹرز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اور حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے تقریباً 8 ہزار فوجی اہلکار، ایک مکمل فائٹر اسکواڈرن اور جدید فضائی دفاعی نظام سعودی عرب بھیجا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تعینات کیے گئے طیاروں میں زیادہ تر جے ایف-17 لڑاکا طیارے شامل ہیں، جو پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیے ہیں۔ یہ طیارے رواں سال اپریل کے آغاز میں سعودی عرب منتقل کیے گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دو ڈرون اسکواڈرنز کے ساتھ چینی ساختہ ایچ کیو-9 فضائی دفاعی نظام بھی سعودی عرب روانہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان نظاموں کو پاکستانی اہلکار آپریٹ کر رہے ہیں جبکہ اس تعیناتی کے اخراجات سعودی عرب برداشت کر رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ ایک مکمل جنگی صلاحیت رکھنے والی تعیناتی ہے، جس کا مقصد کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں سعودی عرب کی فوجی معاونت کرنا ہے۔
پاکستانی فوج، دفتر خارجہ اور سعودی حکام کی جانب سے اس تعیناتی پر باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد اور ریاض کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ گزشتہ سال طے پایا تھا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔ دونوں ممالک پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ معاہدے کے تحت بیرونی جارحیت کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی۔
ایک حکومتی ذریعے کے مطابق ضرورت پڑنے پر اس معاہدے کے تحت 80 ہزار تک پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجے جا سکتے ہیں تاکہ سعودی افواج کے ساتھ مل کر مملکت کی سرحدوں کا دفاع کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق نئی تعیناتی سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہزاروں پاکستانی فوجی اہلکاروں کے علاوہ ہے، جو ماضی کے دفاعی اور تربیتی معاہدوں کے تحت وہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کے دوران پاکستانی اہلکار بنیادی طور پر مشاورتی اور تربیتی فرائض انجام دیں گے، تاہم لڑاکا طیاروں اور جدید دفاعی نظام کی موجودگی اس مشن کے وسیع تر کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔
ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ معاہدے میں پاکستانی بحری اثاثوں کی ممکنہ تعیناتی کی شق بھی شامل ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا پاکستانی جنگی بحری جہاز سعودی عرب پہنچ چکے ہیں یا نہیں۔
یہ فوجی تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ایک جانب ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی سفارتی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد نے رواں سال واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی میں مدد فراہم کی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کی، تاہم بعد ازاں مزید مذاکرات مؤخر کر دیے گئے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے قریبی دفاعی اور تزویراتی تعلقات قائم ہیں۔ سعودی عرب نے مختلف معاشی بحرانوں کے دوران پاکستان کی مالی معاونت کی، جبکہ پاکستان کئی دہائیوں سے سعودی عرب کو فوجی تربیت، مشاورتی خدمات اور سکیورٹی تعاون فراہم کرتا آ رہا ہے۔







