وزیر اعظم شہباز شریف نے گرفتار پاکستانی شہریوں کی فوری اور باعزت واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی عوام کی امن پسند امنگوں اور انسانی ہمدردی کی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں۔


سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ’’صمود غزہ فلوٹیلا‘‘ پر اسرائیلی افواج کے بزدلانہ حملے کی شدید ترین مذمت کرتا ہے۔ مشتاق احمد خان صاحب، مظہر سعید شاہ صاحب، وہاج احمد صاحب، ڈاکٹر اسامہ ریاض صاحب، اسماعیل خان صاحب، سید عزیز نظامی صاحب اور فہد اشتیاق صاحب سمیت دیگر پاکستانیوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے عین مطابق اس عظیم امدادی مشن میں حصہ لیا۔


انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے عوام کے امن پسند جذبات، انصاف کے لیے جدوجہد اور ضرورت مندوں کی مدد کے جذبے کا مظہر ہے۔ حکومتِ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور فوری واپسی کے لیے ہر سطح پر کوشاں ہے۔


اس سے قبل دفتر خارجہ نے بھی ایک بیان میں اس کارروائی کو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا اور فلسطینی عوام تک بلا تعطل امداد پہنچانے کا مطالبہ کیا۔


خیال رہے کہ فلوٹیلا کے منتظمین نے جمعرات کو ایک فہرست جاری کی جس میں بتایا گیا کہ گرفتار افراد میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔ منتظمین نے الزام لگایا کہ صہیونی حملہ آوروں نے بین الاقوامی پانیوں میں امن کے کارکنوں کو گرفتار کیا۔


گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے 45 کشتیوں پر مشتمل اس فلوٹیلا کو روکا، جن پر دنیا بھر سے 500 سے زائد کارکن سوار تھے۔ ان میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔


اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ متعدد کشتیوں کو بحفاظت روک لیا گیا ہےاور مسافروں کو اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ گریٹا اور ان کے ساتھی محفوظ اور صحت مند ہیں۔


مزید پڑھیں: صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کا حملہ ایک اور کھلی دہشت گردی ہے، حافظ نعیم الرحمان


فلوٹیلا کے منتظمین نے اسرائیلی کارروائی کو “جنگی جرم” اور “غیر قانونی حملہ” قرار دیا۔ ان کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے واٹر کینن سے جہازوں کو نشانہ بنایا اور ایک کشتی کو ڈبونے کی کوشش بھی کی۔


فلوٹیلا کی سکیورٹی کے لیے ترکی، اسپین اور اٹلی نے بھی بحری جہاز اور ڈرون تعینات کیے تھے۔ واقعے کے بعد دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور کئی ممالک نے اسرائیلی اقدام کو دہشت گردی قرار دیا۔


وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ان بے لوث کارکنان کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے لیے امداد لے جا رہے تھے۔ پاکستان ان تمام کارکنان کی فوری اور غیر مشروط رہائی اور فلسطینیوں تک امداد کی بلاتعطل ترسیل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسرائیلی بربریت کو روکنا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔