تازہ فہرست کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ یمن کے ساتھ 103 ویں نمبر پر ہے، جب کہ اس سے نیچے عراق 104 ویں، شام 105 ویں اور افغانستان 106 ویں نمبر پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستانی اور یمنی شہری صرف 33 ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کر سکتے ہیں۔ عراق کے شہریوں کو 31 ممالک، شامی شہریوں کو 28 اور افغان شہریوں کو صرف 26 ممالک تک ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
گزشتہ سال 2024 میں پاکستان کا پاسپورٹ 100 ویں نمبر پر تھا اور اُس وقت 32 ممالک میں بغیر ویزے کے داخلے کی اجازت تھی۔
دوسری جانب انڈیا اس فہرست میں 85 ویں نمبر پر ہے جس کے شہری 57 ممالک میں بغیر ویزہ کے سفر کر سکتے ہیں، جب کہ اسی سال جولائی میں اندیا اس انڈیکس میں 77 ویں نمبر تھا۔
رواں سال بھی سنگاپور نے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کا اعزاز برقرار رکھا، جس کے حاملین کو 193 ممالک میں ویزا فری داخلے کی اجازت ہے۔ جنوبی کوریا 190 ممالک کی رسائی کے ساتھ دوسرے اور جاپان 189 ممالک کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
اس فہرست میں جرمنی، اٹلی، لکسمبرگ، اسپین اور سوئٹزرلینڈ 188 ممالک تک ویزا فری رسائی کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں، جب کہ آسٹریا، بیلجیئم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز 187 ممالک کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ امریکہ پہلی بار دنیا کے دس طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست سے باہر ہوگیا ہے، جو اب 12 ویں نمبر پر ہے اور ملائیشیا کے برابر ہے۔ امریکی شہری اب 180 ممالک میں ویزا فری سفر کر سکتے ہیں۔
اسی طرح برطانوی پاسپورٹ بھی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جو چھٹے سے آٹھویں نمبر پر گر گیا ہے۔ یاد رہے کہ 2015 میں برطانیہ دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا۔







