انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ روز کے دوران تین لاکھ 32 ہزار سے زائد چالان ٹکٹس جاری کیے گئے، جب کہ آگاہی کے باوجود مسلسل خلاف ورزیوں پر 56 ہزار 899 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بند کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ سنگین ٹریفک خلاف ورزیوں پر مقدمات بھی درج کیے جا رہے ہیں، جب کہ صوبے بھر میں شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے 40 ہزار سے زائد بینرز، اسٹینڈیز اور پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں یکساں قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، سرکاری گاڑیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔
وقاص نذیر نے واضح کیا کہ نئے ترمیمی آرڈیننس کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ کم عمر ڈرائیوروں اور طالب علموں پر مقدمات درج نہیں ہوں گے بلکہ ذمہ داری گاڑی کے مالکان پر عائد ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین میں ترمیم ہم اپنے بچوں کا مستقبل تاریک کرنے کے لیے نہیں بلکہ محفوظ بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ جرمانے اور مقدمات کا اندراج صرف خلاف ورزی کی صورت میں ہوتا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے یہ پریس کانفرنس کی گئی ہے۔ ان کے مطابق حادثات سے پاک شاہراہیں اور محفوظ سفر حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔
وقاص نذیر نے کہا کہ حکومت پنجاب اور ٹریفک پولیس کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو محفوظ سفر فراہم کرنا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں۔







