انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تعلیم پر توجہ دیتے ہوئے 148 ارب کا بجٹ تعلیم کیلئے مختص ہوا جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 135 فیصد زیادہ تھا۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ 2025 میں سرکاری جامعات کے طلباء کیلئے 15 ارب کی سکالرشپ رکھی گئیں جب کہ سرکاری سکولوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے 40 ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ تمام سکولوں کیلئے اضلاع کو مہیا کر دیا گیا ہے۔ آج سکولوں میں سٹیم لیبز بھی بن رہی ہیں، جب کہ صاف پانی، بجلی، چار دیواری، نئے کلاس رومز اور واش رومز سمیت دیگر سہولیات سے بھی سکولوں کو آراستہ کیا جا رہا ہے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کیلئے دو لاکھ اساتذہ اور طلباء کو گوگل سرٹیفیکیشن کے مرحلے سے گزارا گیا۔ سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے نتیجے میں انرولمنٹ 11 لاکھ سے بڑھ کر 2.6 ملین پر پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2025 میں دو ملین کی گھوسٹ انرولمنٹ ختم کی گئی اور ہزاروں اساتذہ کی ریشنلائزیشن کے ذریعے ٹیچر شارٹیج پر قابو پایا گیا۔ کریکلم ریفارمز اور امتحانی اصلاحات پر تاریخی کام ہوا، ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن پر خصوصی توجہ دی گئی اور سکولوں میں 10 ہزار سے زائد ای سی ای رومز قائم کئے گئے۔ روزانہ 11 لاکھ طلبہ و طالبات کو نیوٹریشن پروگرام سے مستفید کیا جا رہا ہے۔

وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ گذشتہ سال 268 سکول اپ گریڈ کئے گئے، جب کہ اساتذہ کی ہراسمنٹ کے 37 کیسز پر فیصلے ہوئے۔ 450 کالجوں اور 29 یونیورسٹیوں میں مستقل سربراہان کی تقرری بھی 2025 میں مکمل کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کو معیاری ادارے بنانے کی کوشش جاری ہے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی سرکاری سکول میں داخل کروا کر ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔

وزیر تعلیم نے 2026 کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اپنے محکمے کی کارکردگی پر فخر ہے اور آئندہ سال کو تعلیمی انقلاب کے اعتبار سے مزید بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔