نجی ٹی وی سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ کابل میں بیٹھ کر جو ڈوریں کھینچی جا رہی تھیں، وہ دراصل دہلی سے کنٹرول ہو رہی تھیں۔ افغان طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے ہمارے بچے شہید ہو رہے ہیں، اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ انڈیانے پراکسی جنگ شروع کی ہے، اسے ہزیمت اٹھانی پڑی ہے اور اب وہ کابل کے ذریعے تلافی کی کوشش کر رہا ہے۔
وزیرِ دفاع نے خبردار کیا کہ اگر اسلام آباد کی طرف کسی نے نظر بھی اُٹھائی تو ہم آنکھیں نکال دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جس نے طالبان کی حمایت کی، اس کے خلاف مقدمات ہونے چاہئیں؛ چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں، انہیں سزا ملنی چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر پاکستان فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے کردار ادا کر سکے تو یہ خوش قسمتی کی بات ہوگی۔ انہوں نے خیبرپختونخواہ کی منتخب حکومت کا احترام بھی ظاہر کیا۔
وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا تصور موجود نہیں ہے اور حکومت نے شفاف مذاکرات کیے ہیں تاکہ صوبائی مفادات کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
غزہ میں پاک فوج کی تعیناتی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، البتہ اس معاملے پر غور جاری ہے۔
پروگرام کے میزبان شاہ زیب خانزادہ نے وزیرِ دفاع سے پوچھا کہ بین الاقوامی میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ پاکستانی فوج امن فورس کا حصہ بن کر غزہ جا رہی ہے ؟
اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ غزہ ان کے دل کے قریب ہے اور وہ ان لوگوں سے محبت رکھتے ہیں۔ اگر اسلامی دنیا کوئی ایسا فیصلہ کرتی ہے اور پاکستان بھی اس میں شامل ہوتا ہے تو یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہوگی کہ ہم اپنے بھائیوں کی حفاظت اور بہتری کے لیے کردار ادا کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ایک بہترین موقع ہے جس سے پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔
جب میزبان نے پوچھا کہ کیا اس حوالے سے پارلیمنٹ اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیا گیا، تو وزیرِ دفاع نے جواب دیا کہ یہ معاملہ ابھی پراسیس میں ہے اور فائنل نہیں ہوا۔ حکومت اس معاملے کو مقررہ طریقہ کار سے گزار کر فیصلہ کرے گی اور پارلیمنٹ، اتحادیوں اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔







