ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق ایمرجنسی سروسز نے صوبے بھر میں 1388 ٹریفک حادثات پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی۔ ان حادثات میں 707 افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر قریبی ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں منتقل کیا، جبکہ 910 معمولی زخمی افراد کو جائے حادثہ پر ہی ابتدائی طبی امداد دے دی گئی، جس سے ہسپتالوں پر دباؤ میں نمایاں کمی آئی۔

اعداد و شمار کے مطابق ٹریفک حادثات میں سب سے زیادہ حصہ موٹر سائیکل سواروں کا رہا، جو مجموعی حادثات کا تقریباً 77 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا، تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ان حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق متاثرین میں 901 ڈرائیورز، 46 کم عمر ڈرائیورز، 517 مسافر اور 209 پیدل چلنے والے افراد شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سڑکوں پر ہر طبقہ خطرے کی زد میں ہے۔

مزید پڑھیں: کاہنہ: پٹرول پمپ کے واش روم سے نوجوان کی لاش برآمد، تحقیقات جاری

شہروں کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو صوبائی دارالحکومت لاہور 298 حادثات اور 357 متاثرین کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ فیصل آباد 96 حادثات اور 113 متاثرین کے ساتھ دوسرے اور ملتان 93 حادثات اور 97 متاثرین کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 1627 متاثرین میں 1291 مرد اور 336 خواتین شامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے، جن میں 18 سال سے کم عمر افراد بھی شامل ہیں، جبکہ 18 سے 40 سال کے درمیان عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان حادثات میں 1470 موٹر سائیکلیں، 106 آٹو رکشے، 169 کاریں، 38 وینز، 20 مسافر بسیں، 28 ٹرک اور 82 دیگر اقسام کی گاڑیاں شامل تھیں، جو ٹریفک کے بے ہنگم نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترجمان ریسکیو کے مطابق بڑھتے ہوئے حادثات کے پیش نظر شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کریں، لین ڈسپلن کو برقرار رکھیں اور دورانِ ڈرائیونگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ٹریفک حادثات کی یہ بڑھتی ہوئی شرح ایک بڑے سماجی مسئلے کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کے لیے حکومتی اداروں اور عوام دونوں کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔