خبر رساں نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پنجاب حکومت نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں جماعت پر پابندی لگانے کی سفارش وفاقی حکومت کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جماعت کے رہنماؤں کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی چوتھی شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ مرُیدکے میں پولیس اور ٹی ایل پی کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ چار روز قبل پولیس نے علی الصبح مظاہرین کے دھرنے پر کارروائی کی جس کے دوران کم از کم ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق 2700 سے زائد کارکن گرفتار جبکہ تقریباً 2800 افراد کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔
مزید براں ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ اس کا احتجاج غزہ کی صورتحال پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے خلاف تھا۔ جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی نے اعلان کیا تھا کہ وہ لاہور سے اسلام آباد تک الاقصیٰ غزہ مارچ کریں گے۔ پولیس کے مطابق کارکنوں نے راستے میں رکاوٹیں توڑ کر مرُیدکے تک رسائی حاصل کی جہاں آپریشن کے دوران تصادم ہوا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف تین کارکن جاں بحق ہوئے جبکہ جماعت کا دعویٰ ہے کہ درجنوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ سوشل میڈیا پر سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی زیر گردش ہیں جن کی پولیس نے تردید کی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اس بار پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتری ہے کیونکہ ماضی میں ٹی ایل پی کو اکثر رعایت ملتی رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت نے پہلی بار blasphemy کے بجائے فلسطین کے مسئلے پر احتجاج کر کے سیاسی غلطی کی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کی غزہ مارچ عوامی سطح پر پذیرائی حاصل نہ کر سکی اور کوئی بڑی مذہبی جماعت اس احتجاج میں شامل نہیں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام صرف جماعت کے محدود ووٹر بیس کو متحرک کرنے کی ناکام کوشش تھی۔






