الیکشن کمیشن دسمبر کے آخری ہفتے میں انتخابات کرانے کے لیے پہلے ہی تیار ہ، اور اب سب کی نظریں صوبائی حکومت کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں۔ گورنر کے دستخط کے بعد اب گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جسے پنجاب حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ارسال کرے گی، نئے قانون کے تحت الیکشن کمیشن صوبے میں حلقہ بندیاں اور حد بندیاں مکمل کرے گا۔
یاد رہے کہ 8 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونا کمیشن کے لیے باعثِ شرمندگی ہے، اس لیے فوری فیصلہ ناگزیر ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کے نام پر تو شور بہت مچایا جاتا ہے، مگر عوامی سطح پر اختیارات کی منتقلی ہمیشہ سیاست کی نذر ہو جاتی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ 10 سالوں سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کے باعث مقامی نمائندوں کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔
ہر حکومت نے کبھی قوانین میں ترامیم، کبھی سیکیورٹی خدشات اور کبھی سیاسی مجبوریوں کو جواز بنا کر انتخابات مؤخر کیے۔ اب جب کہ گورنر کے دستخطوں کے بعد قانون سازی مکمل ہو گئی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ آیا دسمبر میں واقعی عوام کو ان کا مقامی نمائندہ مل پائے گا یا نہیں۔
آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت بلدیاتی اداروں کو انتظامی، مالی اور سیاسی خودمختاری حاصل ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز وہ اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں جو دراصل مقامی نمائندوں کا حق ہیں۔ گلیوں، نالیوں اور محلوں کے فنڈز بھی عوام کے بجائے اسمبلی ممبران کے ذریعے استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ سیاسی اثرورسوخ برقرار رہے۔
پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئر محمد رضا سرگانہ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمائندے عوام کی نچلی ترین سطح پر ان کے مسائل جانتے ہیں، وہ وسائل کے مطابق مقامی حل نکالتے ہیں۔ اگر یہ نظام فعال ہو جائے تو عام آدمی کے بنیادی مسائل دہلیز پر حل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر جمہوری دور میں مقامی حکومتوں پر شب خون مارا گیا تاکہ اختیارات مرکز میں محدود رہیں، مگر یہی روش جمہوریت کو کمزور کرتی ہے۔
سینیئر صحافی اشرف سہیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر سب سے بڑی بددیانتی بلدیاتی اداروں کے ساتھ کی جاتی رہی ہے۔ جب بھی جمہوری حکومتیں آتی ہیں، وہ لوکل گورنمنٹ کو کمزور کرتی ہیں تاکہ عوام براہِ راست بااختیار نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں عوام کو یہ سمجھ ہی نہیں دی گئی کہ ایم این اے یا ایم پی اے کا کام گلیاں، نالیاں یا سیوریج سسٹم بنوانا نہیں بلکہ پالیسی سازی اور قانون سازی ہے۔ اصل ترقیاتی کام تو بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے ہونے چاہئیں۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے اور گورنر پنجاب کے دستخطوں کے بعد اب امید کی جا رہی ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی نظام ایک بار پھر فعال ہو سکے گا۔ اگر دسمبر میں انتخابات اپنے شیڈول کے مطابق ہو گئے تو یہ صرف ایک انتخابی عمل نہیں بلکہ اختیارات کی عوام تک منتقلی کی سمت ایک تاریخی قدم ہوگا۔







