مریم نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کے مفاد میں متعدد عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ پیداوار ضائع نہ ہو اور آلو کے نرخ مستحکم رہیں،اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت، خاص طور پر وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمدات کی اجازت طلب کی گئی ہے تاکہ کسانوں کو بہتر معاوضہ فراہم کیا جا سکے اور وہ اپنی محنت کے پھل صحیح قیمت پر حاصل کریں۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت اور قازقستان کے درمیان زرعی تعاون کے اقدامات جاری ہیں اور آج پاکستان میں موجود قازقستان کے اعلی سطح وفد کے ساتھ آلو کی برآمد کے حوالے سے اہم ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات میں نئی برآمدی مارکیٹوں تک رسائی کے اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی، جس سے نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے کسان مستفید ہوں گے۔

مزید پڑھیں: لاہور: بسنت کا مزہ کرکرا، کئی علاقوں میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی گئی

انہوں  نے کہا کہ صوبائی حکومت کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی اور وفاق کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ آلو کی پیداوار براہِ راست کسانوں تک پہنچے اور وہ خوشحالی کا تجربہ کریں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ آلو کی بمپر پیداوار نہ صرف کسانوں کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی اور معاشی ترقی کا پیغام لائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قازقستان کے بعد پنجاب حکومت بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے اقدامات کرے گی تاکہ پاکستان کی پیداوار عالمی سطح پر بہترین قیمت پر فروخت ہو سکے اور ملک کی زرعی معیشت مضبوط ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں آلو کی اس ریکارڈ پیداوار سے نہ صرف مقامی مارکیٹ مستحکم ہوگی بلکہ عالمی سطح پر برآمدات کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جو کسانوں اور معیشت دونوں کے لیے خوش آئند ہیں۔