اگر کوئی بالغ شخص، جس کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو، کسی کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرتا ہے تو اسے کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ تین سال تک سخت قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا،اس اقدام کا مقصد معاشرے میں کم عمری کی شادی جیسے حساس مسئلے کا مؤثر سدباب کرنا ہے۔
بل میں واضح طور پر درج کیا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کم عمری کی شادی میں ملوث پائے جائیں گے، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس میں والدین، سرپرست یا دیگر سہولت کار بھی شامل ہیں۔ اگر کوئی سرپرست یا فرد کسی کم عمر کی شادی کروانے میں مدد دیتا ہے، اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یا اسے روکنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے بھی دو سے تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
وضح رہے کہ یہ قانون نہ صرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ اس سے سماجی رویوں میں بھی مثبت تبدیلی آنے کی توقع ہے۔ ماضی میں کم عمری کی شادی کے واقعات پر مؤثر قانونی کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا تھا، تاہم نئے قانون کے نفاذ سے اس رجحان کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے قانون کی منظوری کو خوش آئند قرار دیااور کہا کہ یہ اقدام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد بچوں، خصوصاً بچیوں کو محفوظ اور باوقار مستقبل فراہم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں سیاحت کے فروغ پر 78 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، سیاحت معیشت کو مستحکم کرے گی: مریم اورنگزیب
ان کا کہنا تھا کہ یہ "تاریخی قانون" معاشرے میں ایک مضبوط پیغام دے گا کہ کم عمری کی شادی ناقابلِ قبول ہے،حکومت اس قانون پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی، جن میں آگاہی مہمات، کمیونٹی سطح پر شعور اجاگر کرنا اور متعلقہ اداروں کی سخت نگرانی شامل ہوگی۔
حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں قانون کے نفاذ کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے گی تاکہ اس پر مکمل عملدرآمد ہو سکے اور پنجاب کو کم عمری کی شادی سے پاک معاشرہ بنایا جا سکے۔







