پی ڈی ایم اے کے مطابق اموات کی بڑی وجوہات کچے اور خستہ حال مکانات کا گرنا، آسمانی بجلی گرنا اور کرنٹ لگنے کے واقعات ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث 52 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے، جب کہ 6 مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے مون سون کے تیسرے اسپیل کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جب کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک مالی امداد دی جا رہی ہے۔

عمر عباس میلہ نے ڈپٹی کمشنرز کو دریاؤں اور ندی نالوں کے اطراف دفعہ 144 کے نفاذ کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مون سون کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کچے، مخدوش اور خستہ حال مکانات میں رہائش سے گریز کریں اور غیر ضروری طور پر ندی نالوں اور سیلابی راستوں کا رخ نہ کریں۔

ادارے کے مطابق رواں مون سون سیزن میں زیادہ تر اموات بوسیدہ عمارتوں اور کمزور چھتوں کے گرنے کے باعث پیش آئیں۔