لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب کو سیاحتی لحاظ سے خودکفیل بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے، صرف تاریخی ورثے کی بحالی اور سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ایکو ٹورزم اور وائلڈ لائف ٹورزم کے فروغ کے لیے بھی خصوصی منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی میگنیفیسنٹ پنجاب ایپ میں صوبے بھر کے سیاحتی مقامات، رہائش، سفری سہولیات اور دیگر معلومات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سہولت میسر آئے گی۔

صوبائی وزیر کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے تحت “میگنیفیسنٹ پنجاب” منصوبہ شروع کیا گیا، جس کے ذریعے پہلی بار سیاحتی مقامات کو جدید خطوط پر بحال کیا جا رہا ہے،گزشتہ چند ماہ کے دوران لاہور خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کا ایک نمایاں مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مزید سیاحتی مقامات کو جلد عوام کے لیے کھولا جائے، تاکہ نہ صرف عوام کو معیاری تفریحی سہولیات میسر آئیں بلکہ نوجوان نسل کو بھی اپنے قدرتی اور ثقافتی ورثے سے روشناس کرایا جا سکے۔ اس سلسلے میں طلبہ کے لیے خصوصی ٹورز بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں، جن میں چھانگہ مانگہ جیسے مقامات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: صدر آصف علی زرداری کا شاؤشان میں ماؤ زے تُنگ کے مجسمے پر خراجِ عقیدت

دوران  خطاب مریم اونگ زیب نے کہا کہ  پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوٹلنگ اور ٹورازم انڈسٹری میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلی مرتبہ پنجاب ٹورزم اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے تاکہ سیاحت کے شعبے کو منظم اور مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب کو سیاحت کے میدان میں ایک نمایاں مقام دلانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف صوبے کی معیشت کو مضبوط کریں گے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاحتی نقشے پر بھی اجاگر کریں گے۔

واضح رہے کہ اگر ان منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو آنے والے برسوں میں سیاحت واقعی ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر سکتی ہے، جس سے مقامی کمیونٹیز کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔