آرڈیننس کے مطابق تیز رفتاری پر موٹرسائیکل سوار کو 2 ہزار روپے اور کار ڈرائیور کو 5 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر بھی سخت کارروائی کی جائے گی، موٹرسائیکل کے لیے 2 ہزار، تھری ویلر کے لیے 3 ہزار اور کار کے لیے 5 ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ 2 ہزار سی سی گاڑیوں پر یہ جرمانہ 10 ہزار، جب کہ 2 ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر 15 ہزار روپے ہوگا۔

اوور لوڈنگ پر بھی نئے قوانین سخت ہیں، تھری ویلر کے لیے 3 ہزار، 2 ہزار سی سی سے کم گاڑیوں کے لیے 5 ہزار، 2 ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں کے لیے 10 ہزار اور ٹریلر کے لیے 15 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔

دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ دھواں چھوڑتی موٹرسائیکل کو 2 ہزار، تھری ویلر کو 3 ہزار اور پبلک ٹرانسپورٹ کو 15 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے والوں کو ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا دی جا سکے گی۔ اوور اسپیڈنگ کے جرمانوں میں 300 فیصد تک اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔

ون وے کی خلاف ورزی پر 6 ماہ قید یا 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔ کم عمر ڈرائیونگ کی سزا دگنی کر دی گئی ہے اور والدین کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: حکومت سندھ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں بڑی ترامیم کی تیاری کر لی، مسودہ کابینہ اور سندھ اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان

آرڈیننس کے مطابق جعلی یا پیلی نمبر پلیٹ استعمال کرنے پر بھی سخت سزائیں دی جائیں گی۔ دوبارہ خلاف ورزی کرنے والوں پر اضافی جرمانہ ہوگا، جب کہ نان اسٹینڈرڈ شیشوں کے استعمال پر 6 ماہ تک قید کی سزا رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی رجسٹریشن اور ضروری دستاویزات نہ رکھنے پر بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ چالان اب مکمل طور پر الیکٹرانک طریقے سے جاری کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اب گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے والے کے لیے بھی سیٹ بیلٹ لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ نئے قوانین کا مقصد ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور حادثات کی شرح میں کمی لانا بتایا جا رہا ہے۔