پنجگور پولیس کے ایک اہلکار نے خبررساں ادارے بی بی سی اردو کو بتایا کہ چار گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد شہر میں آئی۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ مسلح افراد شہر میں تین بینکوں کو لوٹنے کے بعد جب ایک اور نجی بینک اور ایک سرکاری بینک کو لوٹنے کے لیے آئے تو وہاں نجی بینک کو لوٹنے کی کوشش کے دوران پولیس اہلکاروں نے مزاحمت کی۔
اہلکار نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران ایک پولیس اہلکاراور ایک شہری جاں بحق ہو گئے، جب کہ دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
پولیس اہلکار کے مطابق اس نجی بینک پر مزاحمت کی وجہ سے مسلح افراد رقم نہیں لے جا سکے اور جھڑپ کے بعد وہ فرار ہو گئے۔
اہلکار نے بتایا کہ جھڑپ سے قبل مسلح افراد تین نجی بینکوں سے رقوم لوٹنے میں کامیاب ہو گئے تاہم وہ فوری طور پر یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ وہاں سے کتنی رقم لے جا سکے۔
ایس ایس پی پنجگور دوست محمد بگٹی نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کی مزاحمت کی وجہ سے مسلح افراد دو بینکوں میں داخل نہیں ہو سکے۔
انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد کی تعداد زیادہ تھی تاہم پولیس اہلکاروں نے مزاحمت کی جس کے دوران ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کی فائرنگ کی زد میں آکر ایک شہری بھی جاں بحق ہوا۔ اُنھوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔






