مقامی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق اس عالمی درجہ بندی میں چار سو سے زائد بندرگاہوں کا تجزیہ کیا گیا، جس میں پاکستان کی شاندار پیش رفت عالمی منظرنامے پر اجاگر ہوئی۔ چار سال کے اندر 35 پوائنٹس کی غیر معمولی بہتری نے پورٹ قاسم کی کارکردگی کو عالمی معیار کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے اس کامیابی کو قومی فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارنامہ حکومتی پالیسی اصلاحات، مؤثر قوانین اور جدید ٹیکنالوجی کے بروقت نفاذ کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، کارگو آٹومیشن اور ریئل ٹائم ٹریکنگ جیسے اقدامات نے بندرگاہ کی کارکردگی کو نیا معیار دیا ہے، جب کہ ڈی پی ورلڈ کے زیر انتظام قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل نے عالمی معیار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے طویل عرصے سے زیر التواء ڈریجنگ منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس سے اب بڑے بحری جہاز بھی پورٹ قاسم میں لنگر انداز ہو سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے برتھس اور اسٹوریج سہولیات کی فراہمی سے برآمدی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین پورٹ قاسم، ریئر ایڈمرل (ر) معظم الیاس نے اس پیش رفت کو افرادی قوت کی محنت اور جدید اختراعات کا نتیجہ قرار دیا۔
ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی نے پورٹ آپریشنز کو عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے اور یہ کامیابی پاکستان کو خطے کے ایک مستحکم لاجسٹکس حب کے طور پر تسلیم کراتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم مل کر ایک جدید سمندری مثلث تشکیل دے رہے ہیں، جس سے درآمدات اور برآمدات کی لاگت میں کمی آئے گی۔
چیئرمین پورٹ قاسم نے کہا کہ عالمی سطح پر اس کامیابی سے مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا جا سکے گا اور پورٹ قاسم کی ترقی پاکستان کی بحری خوشحالی کے وژن کی عملی تعبیر ہے۔







