پرنس رحیم آغا خان خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے گلگت سے چترال پہنچے۔ لوئر چترال ایئرپورٹ پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ان کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر اعلیٰ حکام اور مقامی شخصیات بھی موجود تھیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایئرپورٹ پر پرنس رحیم آغا خان سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ چترال آمد کا مقصد پرنس رحیم آغا خان کا استقبال کرنا اور ان سے مختلف ترقیاتی امور پر بات چیت کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران صوبے میں جاری حکومتی اقدامات، عوامی فلاحی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

وزیراعلیٰ کے مطابق پرنس رحیم آغا خان نے خیبرپختونخوا، خصوصاً شمالی علاقوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت صوبے میں سیاحت، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب چترال اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں اسماعیلی برادری کے افراد نے اپنے روحانی پیشوا کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ مقامی افراد کی بڑی تعداد نے مختلف مقامات پر استقبال بھی کیا۔

 پرنس رحیم آغا خان اپنے دورے کے دوران مختلف سماجی، فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے تحت شمالی علاقوں میں تعلیم، صحت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے متعدد منصوبے پہلے سے جاری ہیں، جنہیں مزید وسعت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔