پولیس ترجمان کے بیان کے مطابق پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ایک تھانے پر دستی بم حملہ کیا گیا، جس سے روزنامچہ ڈیوٹی پر موجود ہیڈ کانسٹیبل فیصل زخمی ہو گئے۔ اسی دوران تھانہ متنی کی حدود میں بھی ایک دستی بم دھماکے میں ایک شہری زخمی ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ خیبر اور متنی کے مختلف علاقوں میں پولیس تنصیبات پر ہینڈ گرینیڈ اور مختلف نوعیت کے ہتھیاروں سے حملے کیے گئے۔ بنوں میں تھانہ منڈان کی حدود میں واقع پی پی کنگر پل پر شدت پسندوں نے مختلف سمتوں سے سنائپر رائفلز کے ذریعے فائرنگ کی۔
مزید بتایا گیا کہ تھانہ ڈومیل کی چوکی کاشو پل پر بھی حملہ ہوا، جہاں پولیس کی جانب سے فوری جوابی کارروائی کی گئی اور فائرنگ تقریباً پندرہ منٹ تک جاری رہی۔
ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تکیہ پولیس چیک پوسٹ پر بھی نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس کے مطابق تمام حملوں کو ناکام بنا دیا گیا اور حملہ آوروں کے خلاف مؤثر جوابی کارروائی کی گئی۔
صوبائی انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید نے کہا کہ حملہ آور چھپ کر وار کرتے ہیں اور براہِ راست مقابلے کی ہمت نہیں رکھتے۔ ان کے بقول پولیس کی بھرپور اور سخت کارروائی کے بعد یہ عناصر میدان چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔







