ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں شمسی توانائی کے منصوبوں، دانش سکولوں کے سنگِ بنیاد، سیف سٹی گلگت اور سیف سٹی سکردو کے افتتاح، مفت سولر پینلز کی تقسیم، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت طلبہ میں لیپ ٹاپس کی تقسیم اور کاروباری و زرعی قرضوں کے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزرا انجینئر امیر مقام، عطاء اللہ تارڑ، اویس لغاری، عبدالعلیم خان، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج انہیں ایک بار پھر گلگت بلتستان آ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ نہ صرف ایک خوبصورت علاقہ ہے بلکہ محنتی اور ہونہار طلبہ و طالبات کا خطہ بھی ہے، جو پاکستان کا فخر ہیں۔

انہوں نے محنت سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے والدین اور اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ میں لیپ ٹاپس کی تقسیم نہ صرف ان کی تعلیمی قابلیت کا اعتراف ہے بلکہ اس کے ذریعے وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل بھی ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 1997ء میں جب مجھے میرے قائد محمد نواز شریف اور میری جماعت مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کا خادمِ اعلیٰ مقرر کیا، تب سے آج تک میں نے میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس وقت میرٹ کو سکہ رائج الوقت بنایا، جب کوئی اس تصور سے آشنا نہیں تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے محنت، امانت اور دیانت کو اپنا شعار بنانا ہو گا۔ ایچی سن کے معیار کی تعلیم دانش سکولوں میں فراہم کی جا رہی ہے۔ مجھ پر بڑی تنقید ہوئی کہ سرکاری سکولوں کو بہتر بنانے کے بجائے دانش سکولوں پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے، لیکن آج ہزاروں طلبہ و طالبات ان سکولوں سے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹرز، انجینئرز بن چکے ہیں اور غیر ملکی یونیورسٹیوں میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اگر امرا کے بچے ایچی سن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں تو ہونہار طلبہ و طالبات کو مفت تعلیم کے مواقع کیوں نہیں مل سکتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے چاروں دانش سکولوں کی طالبات کے لیے نہ صرف تعلیم مفت ہو گی بلکہ کتابیں، یونیفارم اور کھانا بھی مفت فراہم کیا جائے گا، جب کہ سمارٹ بورڈز، ای-لائبریری سمیت جدید تعلیمی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی گلگت بلتستان میں شمسی توانائی کے منصوبے پر کام شروع کیا۔ 100 میگاواٹ کا منصوبہ آئندہ سال مکمل ہو گا، جبکہ شفاف اور ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے 15 ہزار گھرانوں میں مفت سولر پینلز تقسیم کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سب کا سانجھا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ترقی کے عمل میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ اس کے لیے جو بھی وسائل میسر ہوئے، عوام کے قدموں پر نچھاور کریں گے۔

وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے مابین جنگ بندی کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھائی اور ہمسائے کی حیثیت سے خطے میں امن کے لیے جو کردار ادا کیا، تاریخ اسے بیان کرے گی۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت دن رات امریکا اور ایران سے رابطے میں رہی اور جنگ بندی کرائی۔ انہوں نے دیرپا جنگ بندی اور امن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے 78 برس بعد آج وہ موقع آیا ہے کہ خیبر سے کراچی تک خطے میں امن اور جانیں بچانے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔

وزیراعظم نے جنگ بندی اور امن کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔

قبل ازیں وزیراعظم نے ہونہار طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپس اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں میں کاروباری قرضوں کے چیکس تقسیم کیے۔ وزیراعظم نے سلطان آباد، گانچھے، استور اور سکردو سمیت گلگت بلتستان میں چار دانش سکولوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ انہوں نے سیف سٹی گلگت، سیف سٹی سکردو اور شمسی توانائی کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔

اس موقع پر وزیراعظم کو گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ غریب ترین بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے، اساتذہ کا انتخاب مقامی سطح پر اور سو فیصد میرٹ پر کیا جائے، جبکہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ سکول بنائے جائیں، جہاں سمارٹ بورڈز، لیپ ٹاپس، ای-لائبریریز اور کھیلوں کی جدید سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی بہترین درسگاہیں ہونی چاہئیں۔

وزیراعظم نے سیف سٹی منصوبوں کا معیار بھی پنجاب کی طرز پر یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سیف سٹی منصوبوں کے تحت 385 جدید ترین کیمرے نصب کیے جائیں گے۔