لاہور میں احتجاجی مظاہروں اور عوامی کمیٹیوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکسز کا بوجھ بھی عوام پر ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے اپنی عیاشیاں کم کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام پر “پٹرول بم” کی صورت میں گرا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً اڑھائی کروڑ موٹر سائیکل سوار اس فیصلے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جبکہ دیہاڑی دار مزدور اور طلبہ بھی ماہانہ ہزاروں روپے ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت غریب عوام سے سینکڑوں ارب روپے ٹیکس وصول کرتی ہے، جبکہ بااثر طبقے سے خاطر خواہ ٹیکس نہیں لیا جاتا۔
امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ہزاروں ارب روپے کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جو عوام کے وسائل پر بوجھ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اب افسر شاہی اور اشرافیہ کے خلاف بھی تحریک چلائی جائے گی کیونکہ یہ طبقہ عوام کے مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں نظام کی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے، محض چہروں کی تبدیلی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عدالتی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غریب انصاف کے لیے دربدر ہو رہے ہیں جبکہ بااثر افراد کو رعایت حاصل ہے۔
انہوں نے سندھ میں ام رباب کیس اور پنجاب میں کسانوں کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا۔ ان کے مطابق حکومت کی مقررہ قیمت کے باوجود کسانوں کو کم نرخ پر گندم فروخت کرنا پڑی، جس سے ان کی معاشی حالت مزید خراب ہوئی۔
تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ حکومتی پالیسیوں کے باعث تعلیمی نظام مزید کمزور ہو رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری اداروں کی نجکاری پر بھی تنقید کی اور کہا کہ قومی اثاثوں کو سستے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اس “ظالمانہ نظام” کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور آنے والے دنوں میں احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔
جیکب آباد میں بھی جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جہاں مظاہرین نے ڈی سی چوک پر دھرنا دیا۔ مظاہرے کی قیادت دیدار لاشاری، ہدایت اللہ رند، محمد حنیف کھوسو اور غلام حیدر پیرزادہ نے کی، جبکہ کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی کے خلاف نعرے درج تھے۔
اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب اور متوسط طبقے پر ظلم کے مترادف ہے، جس کے باعث روزمرہ اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی کے اس طوفان سے بدامنی میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ عوام پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب اپر چترال میں بھی نمازِ جمعہ کے بعد بونی چوک پر جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اضافے نے مہنگائی کے ایک نئے طوفان کو جنم دیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔







