سوشل اکاؤنٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے ایک مرتبہ پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 15، 15 روپے فی لیٹر اضافہ کرکے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا ہے،حکمران مسلسل عالمی مارکیٹ کا جواز پیش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پٹرولیم لیوی اور بھاری ٹیکسز کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، مگر اس کے باوجود پاکستان میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمت 8 ڈالر تک کم ہوئی، لیکن حکومت نے اس فائدے کو عوام تک منتقل کرنے کے بجائے اضافی لیوی اور ٹیکسز کی صورت میں اپنی آمدنی بڑھانے کو ترجیح دی۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس وقت بھی پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 150 روپے سے زائد مختلف ٹیکسز اور لیوی وصول کی جا رہی ہے، جس کا براہ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہا ہے، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو عوامی سہولت کے بجائے آمدنی کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور بے روزگاری سے شدید متاثر ہے، ایسے میں پٹرولیم قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ ان کے مطابق طالب علم، مزدور، دیہاڑی دار طبقہ اور بائیکیا چلانے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی روزمرہ آمدن کا بڑا حصہ صرف ایندھن پر خرچ ہو رہا ہے۔
حکومت مسلسل پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے۔ آج پھر 15 ، 15 روپے فی لیٹر بڑھادیے۔ حکومت نے پٹرول کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ عالمی مارکیٹ کا نام لیتے ہیں اور بھاری لیوی وصول کررہے ہیں جس کا پٹرولیم کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔اہم بات یہ ہے عالمی مارکیٹ میں چند دنوں… pic.twitter.com/FiXdB1dwtG
— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) May 8, 2026
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نےکہا کہ ایک طرف عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب حکمران طبقے کی شاہ خرچیاں، پروٹوکول اور مراعات بدستور جاری ہیں، اربوں روپے کے سرکاری جہاز، لمبے پروٹوکول اور غیر ضروری اخراجات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمران عوامی مشکلات سے لاتعلق ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:مشکل حالات کے باوجود معیشت درست سمت پر گامزن ہے، وزیر خزانہ
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ ملک میں دو الگ نظام نہیں چل سکتے، ایک طرف عوام بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہوں اور دوسری جانب حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف رہے، اگر حکومت نے عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو عوامی ردعمل میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پٹرولیم لیوی اور اضافی ٹیکسز میں کمی کرے تاکہ عوام کو مہنگائی سے کچھ ریلیف مل سکے اور معیشت پر بڑھتے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔







