پولیس ذرائع کے مطابق صنم جاوید کو تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد حراست میں لیا گیا، جس کے بعد انہیں سینٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صنم جاوید کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مقدمہ نمبر 23/768 کے تحت 5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
دوسری جانب پشاور کے تھانہ شرقی میں پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کے خلاف ایڈووکیٹ حراء بابر دختر محمد بابر شعیب کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں اغوا اور حبسِ بے جا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کو دیکھ لیں وہ پاکستان کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرتا، گورنر کے پی
ایف آئی آر کے متن کے مطابق چھ اکتوبر 2025 کی رات تقریباً 10 بج کر 40 منٹ پر صنم جاوید کو سول آفیسرز میس پشاور کینٹ کے قریب سے زبردستی ایک گاڑی میں بٹھا کر لے جایا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق سبز رنگ کی ایک گاڑی نے صنم جاوید کی کار کو روکا، جب کہ سفید گاڑی نے پیچھے سے راستہ بند کیا۔ گاڑیوں سے نکلنے والے پانچ افراد نے انہیں زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ریڈ زون کی سمت روانہ ہو گئے۔
واضح رہے کہ صنم جاوید کی بہن فلک جاوید کو بھی گزشتہ ماہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی مبینہ جعلی ویڈیوز کے کیس میں گرفتار کیا تھا۔







