قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ سب کے سامنے ہے اور ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو محاذ آرائی کے بجائے برداشت، مکالمے اور جمہوری روایات کو فروغ دینا چاہیے تاکہ پارلیمانی نظام مزید مستحکم ہو سکے۔

وزیر دفاع نے پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی رواداری اور پارلیمانی روایات کو سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں پہنچا، اس عرصے کے دوران سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کیا گیا اور پارلیمانی ماحول کشیدگی کا شکار رہا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اگر ایوان کے ماحول کو بہتر بنانا ہے تو تمام سیاسی قوتوں کو اپنی سابقہ غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مثبت رویہ اپنانا ہوگا۔ انہوں نے ارکانِ پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر پارلیمانی روایات کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ میثاقِ جمہوریت نے ملکی سیاست میں مفاہمت اور جمہوری استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر اس دستاویز میں کسی قسم کی بہتری یا تبدیلی کی ضرورت ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اس پر غور کرنا چاہیے تاکہ جمہوری نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے سابقہ حکومت کے دوران قانون سازی کے عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک موقع پر انتہائی مختصر وقت میں درجنوں قوانین منظور کیے گئے، جس پر اس وقت بھی سوالات اٹھائے گئے تھے،  اہم قانون سازی ہمیشہ تفصیلی مشاورت، بحث اور اتفاقِ رائے کے ذریعے ہونی چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت پارلیمانی روایات کے فروغ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں کی حامی ہے، وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن سے حالیہ رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں مذاکرات اور بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔

مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل و وزیرِاعظم کی قیادت میں پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا: خواجہ آصف

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ماضی کے سیاسی تجربات سے سیکھتے ہوئے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا، جس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں اپوزیشن کو نظر انداز کیا گیا اور اہم قومی معاملات پر مشاورت کی روایت کمزور پڑ گئی۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جمہوری نظام کی کامیابی سیاسی برداشت، اختلافِ رائے کے احترام اور پارلیمانی آداب کی پاسداری سے مشروط ہے۔ اگر تمام سیاسی قوتیں قومی مفاد کو مقدم رکھیں تو نہ صرف سیاسی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ کو مؤثر، فعال اور باوقار ادارہ بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جمہوری نظام مضبوط اور عوام کا اعتماد بحال رہے۔