خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت صرف عمران خان کے لیے ایک رہائی فورس قائم کرے گی، لیکن دہشتگردوں کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھائے گی اور شہدا کے جنازوں میں شرکت سے بھی گریز کرے گی۔

انہوں  نے مزید کہا کہ روزانہ پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں اور شہری زندہ جلائے جا رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کے بانی کی ترجیح سب سے اہم ہے، باقی سب معاملات بے معنی اور بے وقعت ہیں۔

انہوں  نے اس موقع پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں وزارتِ اعلیٰ کے معاملات "بھاڑ میں" چلے گئے ہیں، وطن کی سلامتی کی کوئی وقعت نہیں، جبکہ باہر بیٹھے یوٹیوبرز اپنے کاروبار میں مصروف ہیں اور اندر بیٹھے رہنماء ایک دوسرے پر گالیاں دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان رہائی فورس بنے گی، صحت پر فیصلہ فیملی کرے گی: شفیع جان

انہوں نے کہا: "کسی کو نہیں معلوم کہ سیاسی جماعت کے کتنے ٹکڑے ہیں، لیکن سب کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان اندر رہے۔ پی ٹی آئی کے سارے گروپوں میں ہزاروں اختلافات موجود ہیں، مگر ایک ایشو پر سب کا مکمل اتفاق ہے، اور وہ ہے عمران خان کی رہائی۔"

انہوں  نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال ملک کے سیاسی اور سیکیورٹی منظرنامے کے لیے خطرناک ہے، اور حکومت کی عدم کارروائی شہریوں اور اہلکاروں کے خون کی قیمت کے بغیر سیاسی ترجیحات کی عکاس ہے۔