حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جسے عوام منتخب کریں وہ میئر ہونا چاہیے، قبضہ کرنے والے نہیں۔ گل پلازہ کے سانحہ کے بعد کراچی کے شہریوں میں بے بسی اور مایوسی کی کیفیت ہے، اور حکومتیں شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں، شہر میں بارش کے پانی کا نکاس نہیں ہو پاتا، آگ لگنے پر قابو نہیں پایا جاتا، جبکہ گرین لائن منصوبہ 10 سال بعد بھی مکمل نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرین لائن پروجیکٹ 2016 میں شروع ہوا اور آج تک مکمل نہیں ہوا، جبکہ ریڈ لائن منصوبہ 2024 تک مکمل ہونا تھا مگر وہ بھی مکمل نہیں ہوا۔ ریڈ لائن منصوبے کے لیے بنی سڑک کو توڑ دیا گیا، جس سے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔
مزید پڑھیں: ریاست آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی، حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاق میں سب مل کر حکومت کر رہے ہیں اور شہر کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔ کراچی میں پورشن کا دھندہ جاری ہے، اور شہر کے مسائل کا حل نہ صوبائی حکومت کے پاس ہے نہ وفاق کے پاس۔ ان کے بقول، کراچی کے مسائل کا حقیقی حل صرف کراچی سٹی گورنمنٹ کے ذریعے ممکن ہے، جو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نا اہل اور کرپٹ لوگ شہر پر قابض ہیں اور ان کی کرپشن اور کک بیکس بڑھتی رہتی ہیں، جس سے شہری مزید مشکلات اور مایوسی کا شکار ہیں،شہریوں کے بنیادی مسائل جیسے بارش کے پانی کا نکاس، آگ بجھانے کے نظام، اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے فوری طور پر مکمل کیے جائیں۔







