فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق علی اکبر 1975 میں فرانس منتقل ہوئے تھے، جہاں انہوں نے بے گھری، مشکلات اور حملوں کا سامنا کیا، مگر کئی دہائیوں تک محنت اور استقامت سے کام جاری رکھا۔

ایلیسی پیلس میں منعقدہ تقریب کے دوران صدر میکرون نے علی اکبر کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نصف صدی تک فرانس کو دل میں بسائے رکھا اور اپنی آواز کے ذریعے خبروں کو لوگوں تک پہنچایا۔

صدر نے انہیں فرانس کے پریس کی آواز قرار دیا اور پیرس کے مشہور کیفوں کے قریب اخبارات فروخت کرنے پر ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، جہاں وہ برسوں سے شہ سرخیاں بلند آواز میں پڑھ کر مشہور رہے ہیں۔

علی اکبر کو پیرس کی گلیوں میں اخبار فروخت کرنے کے منفرد انداز کی وجہ سے ایک لیجنڈ سمجھا جاتا ہے اور انہیں ’پیرس کا آخری ہاکر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے علی اکبر نے غربت کے باعث فرانس کا رخ کیا تھا، جہاں انہوں نے مختلف ملازمتیں کیں، بعد ازاں ایک فرانسیسی مزاح نگار کے مشورے پر اخبار فروخت کرنے کا آغاز کیا۔

علی اکبر کا کہنا ہے کہ وہ صدر کے الفاظ سے بے حد متاثر ہوئے ہیں اور وہ اخبار فروخت کرنے اور لوگوں کو اپنے مزاحیہ انداز سے محظوظ کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔