لاہور میں وزیر توانائی علی پرویز ملک کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی کی صورتحال کے پیش نظر پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 150 روپے اور ڈیزل میں 250 روپے تک اضافے کا امکان تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے ذریعے اس اضافے کو مؤخر کر دیا گیا۔

عطا تارڑ نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ملک میں توانائی کے استعمال کے حوالے سے مؤثر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام دونوں کو مل کر بچت کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔

اس موقع پر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث حالات غیر یقینی ہیں، تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر کفایت شعاری کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی اخراجات میں کمی اور مراعات میں کٹوتی جیسے اقدامات کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فی الحال روکا گیا ہے۔

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جبکہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک مؤثر اور پائیدار نظام بنایا جائے گا تاکہ توانائی کی بچت کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ حکومت کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور موجودہ چیلنجز سے نکلنے کے لیے تمام فریقین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔