ذرائع کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد پیٹرول کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا، ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی فروخت کی روک تھام کرنا اور ایندھن کے استعمال پر مؤثر نگرانی قائم کرنا ہے۔ اس اقدام سے حکومت کو ملک میں فیول کی طلب و رسد کے حوالے سے درست اور بروقت ڈیٹا بھی دستیاب ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم کے تحت ہر گاڑی یا صارف کے لیے ایک مخصوص کوٹہ مقرر کیا جائے گا، جس کی نگرانی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے گی۔ پیٹرول پمپس پر تعینات عملہ اس مقصد کے لیے خصوصی موبائل ڈیوائسز استعمال کرے گا، جو کہ متعلقہ اداروں سے منظور شدہ ہوں گی۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے منظور شدہ موبائل ہینڈ سیٹس استعمال کیے جائیں گے، تاکہ سسٹم کی شفافیت اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پیٹرولیم سبسڈی کی ادائیگیاں ٹرانسپورٹرز کو پیر سے شروع ہونا تھیں، مگر وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزارت آئی ٹی اور اسٹیٹ بینک نے ہفتہ کی رات ہی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا عمل شروع کر دیا۔ اس بروقت اقدام سے ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مؤثر طریقے… pic.twitter.com/RWEhd87LGd
— 𝗨𝗦𝗠𝗔𝗡 𝗠𝗨𝗚𝗛𝗔𝗟 (@MughalZaada001) April 6, 2026
مزید بتایا گیا ہے کہ وزارت آئی ٹی نے پیٹرول پمپس پر فراہم کیے جانے والے موبائل فونز کی جانچ کا عمل مکمل کر لیا ہے، جبکہ او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیز) کے لیے خریدے گئے آلات کی توثیق بھی مکمل ہو چکی ہے۔ ان موبائل ڈیوائسز میں ایک خصوصی ایپلیکیشن انسٹال کی گئی ہے، جس کے ذریعے فیول کی فراہمی، کوٹہ کی جانچ اور صارف کی تفصیلات کو فوری طور پر ریکارڈ کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق اس ایپلیکیشن کی ٹیسٹنگ بھی کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے اور ابتدائی مرحلے میں اسے چند بڑے شہروں میں آزمائشی بنیادوں پر نافذ کیا جائے گا، جس کے بعد مرحلہ وار پورے ملک میں اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو نہ صرف پیٹرول کی غیر ضروری کھپت پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ اسمگلنگ اور بلیک مارکیٹنگ جیسے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ تاہم، شہریوں کی جانب سے اس اقدام پر ملا جلا ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، کیونکہ کوٹہ سسٹم روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی مفاد میں اٹھایا جا رہا ہے اور اس سے توانائی کے وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملے گی، جبکہ مستقبل میں اسے مزید جدید بنانے کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل شناختی نظام کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔







