ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے احتجاج اور عوامی ردعمل کو اہمیت دیتے ہوئے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ احسن اقبال نے لیاقت بلوچ کو ملکی معاشی حالات، حکومتی اقدامات اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے بریفنگ کی پیشکش کی۔
دوسری جانب لیاقت بلوچ نے حکومتی مؤقف سننے کے ساتھ جماعت اسلامی کے تحفظات بھی واضح طور پر سامنے رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں، ایسے حالات میں پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

لیاقت بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اور اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے مہنگائی پر قابو پانے کے عملی اقدامات کیے جائیں، عوام کی قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے اور حکومت کو عوامی مشکلات کا فوری ازالہ کرنا ہوگا۔
جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی میں اضافے اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف گزشتہ روز ملک گیر احتجاج کی کال دی تھی۔ احتجاج کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں کارکنوں نے اہم شاہراہوں اور راستوں پر دھرنے دیے، جس کے باعث متعدد مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
جماعت اسلامی کے مطابق ملک بھر میں 510 مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں کی گئیں، جبکہ مختلف شہروں میں اہم سڑکوں اور شاہراہوں کی بندش کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور لیوی کے بوجھ کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔ جماعت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی بوجھ واپس لیا جائے اور بجلی کے بلوں میں بھی عوام کو ریلیف دیا جائے۔
ملک گیر احتجاج کے بعد حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطہ سیاسی اور انتظامی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے مذاکرات اور بریفنگ کی پیشکش سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ احتجاج کے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ادھر لیاقت بلوچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی والدہ کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور بیرسٹر گوہر خان سے تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کے لیے مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔







