سروے کے مطابق 76 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران جنگ میں امریکی جانوں کے ضیاع اور حکومتی اخراجات کے پیش نظر یہ جنگ قابلِ قبول نہیں، جب کہ 70 فیصد کا کہنا ہے کہ جنگ نے امریکی مفادات کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے۔

ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی پالیسی کی منظوری بھی کم ہوئی ہے۔ صرف 26 فیصد امریکی بالغ افراد نے ایران کی صورتحال سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقۂ کار کی حمایت کی، جو جنگ شروع ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد موجود 33 فیصد شرح سے کم ہے۔

مجموعی طور پر خارجہ امور سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقۂ کار کی منظوری 29 فیصد رہی، جب کہ 71 فیصد نے اسے مسترد کیا۔

سروے میں 75 فیصد امریکیوں نے کہا کہ ٹرمپ کے پاس ایران کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے واضح منصوبہ موجود نہیں، جب کہ تقریباً 70 فیصد کا خیال ہے کہ ایران جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کا کم از کم کچھ امکان موجود ہے۔

32 فیصد نے اسے طویل جنگ بننے کا ’بہت زیادہ امکان‘ قرار دیا، جو جنگ شروع ہونے کے بعد اس رائے کی بلند ترین سطح ہے۔

سروے میں ٹرمپ کی ایران پالیسی پر ری پبلکنز کی حمایت میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ مارچ میں 73 فیصد ری پبلکنز نے ایران کے معاملے پر ٹرمپ کے اقدامات کی منظوری دی تھی، جو اب کم ہوکر 60 فیصد رہ گئی ہے۔

خیال رہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان رائے میں نمایاں فرق برقرار ہے۔ 55 فیصد ری پبلکنز کا کہنا ہے کہ جنگ اپنے اخراجات کے لحاظ سے قابلِ قبول ہے، جب کہ 53 فیصد کا خیال ہے کہ ٹرمپ جنگ ختم کرنے کے لیے کافی اقدامات کر رہے ہیں۔

اس کے برعکس 97 فیصد ڈیموکریٹس اور 82 فیصد آزاد ووٹرز کا کہنا ہے کہ جنگ اپنے اخراجات کے لحاظ سے قابلِ قبول نہیں۔

جنگ جیتنے کے سوال پر بھی ری پبلکنز میں 70 فیصد نے امریکا کو کامیاب قرار دیا، جب کہ آزاد ووٹرز میں یہ شرح 31 فیصد اور ڈیموکریٹس میں صرف 13 فیصد رہی۔

سروے کے مطابق امریکی عوام میں ٹرمپ کی مجموعی خارجہ پالیسی کے بارے میں بھی منفی رائے میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 29 فیصد امریکی خارجہ امور سے نمٹنے کے ان کے طریقۂ کار سے مطمئن ہیں، جب کہ 71 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

ٹرمپ کی جنگی کابینہ کے اہم ارکان کے لیے بھی مجموعی منظوری کی شرح 50 فیصد سے کم رہی۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو کو 40 فیصد، نائب صدر جے ڈی وینس کو 36 فیصد اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو 34 فیصد امریکیوں نے منظور کیا۔

مزید پڑھیں: محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، پاکستان ایران تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

سروے میں بعض دیگر ممالک کے بارے میں امریکی عوام کی رائے میں بھی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ کینیڈا کو اتحادی سمجھنے والے امریکیوں کی شرح مارچ 2025 میں 51 فیصد تھی جو اب کم ہوکر 38 فیصد رہ گئی ہے۔ یہ کمی ری پبلکنز میں زیادہ نمایاں رہی۔

اسرائیل کے بارے میں بھی امریکی رائے میں تبدیلی دیکھی گئی۔ 61 فیصد امریکی اسے اتحادی یا دوست ملک سمجھتے ہیں، جبکہ 15 فیصد نے اسے دشمن قرار دیا۔ سی این این کے مطابق 2000 کے بعد اس کے سروے میں اسرائیل کو دشمن قرار دینے والوں کی یہ بلند ترین شرح ہے۔

یہ تبدیلی بالخصوص ڈیموکریٹس اور کم عمر امریکیوں میں نمایاں ہے۔ 45 سال سے کم عمر امریکیوں میں 23 فیصد نے اسرائیل کو دشمن قرار دیا، جب کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل یہ شرح 9 فیصد تھی۔