اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر فلسطین کے معاملے پر او آئی سی کی کمیٹی آف سکس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اسحاق ڈار نے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے کی جانے والی ثالثی اور سفارتی کوششوں کو سراہا، جنگ کے خاتمے اور خطے میں مستقل امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ جامع امن منصوبے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر بھی مکمل اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ غزہ میں امن، انسانی امداد اور مستقبل کے انتظام سے متعلق معاملات کو واضح سمت دی جاسکے۔
نائب وزیراعظم نے غزہ میں انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی شہریوں کو بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی اور امداد کی بلاتعطل رسائی کو یقینی بنانا عالمی برادری کی اہم ذمہ داری ہے۔
اسحاق ڈار نے مسجد اقصیٰ سمیت الحرم الشریف میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت بھی کی۔ انہوں نے مغربی کنارے، بالخصوص مشرقی بیت المقدس میں غیرقانونی آبادکاری، آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینی علاقوں کے الحاق سے متعلق اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایسی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں، اس لیے عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
نائب وزیراعظم نے اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور اسرائیلی اقدامات کے خلاف مشترکہ سفارتی کوششوں کو مزید مربوط اور مؤثر بنایا جائے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو اور جنگ کے بعد علاقے کے مستقبل کے انتظام سے متعلق فیصلے فلسطینی قیادت کی مشاورت اور شمولیت سے ہونے چاہییں، فلسطینی اتھارٹی کو مستقبل کے انتظام و حکمرانی کے عمل میں مرکزی کردار دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی تعمیر نو محض بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا معاملہ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کو ایک محفوظ، مستحکم اور باوقار مستقبل فراہم کرنے کے وسیع تر عمل کا حصہ ہونی چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کی ضرورت پر بھی زور دیا، شہریوں کے تحفظ، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی پاسداری کے اصولوں کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے ایک بار پھر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ پاکستان فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دلانے کی کوششوں کی بھی حمایت جاری رکھے گا۔
نائب وزیراعظم کے مطابق مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے، جس کے لیے عالمی برادری کو دو ریاستی حل کے نفاذ اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور غزہ میں پائیدار جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عالمی سطح پر اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کرتا رہے گا۔







