میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھا جائے اور شہریوں کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج کے نام پر ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے دارالحکومت میں بدامنی یا شہریوں کے لیے مشکلات پیدا ہوں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی، اگر کوئی گروہ قانون کو ہاتھ میں لینے یا شہریوں کی زندگی معمول سے ہٹانے کی کوشش کرے گا تو اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے ماضی کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اب تک پی ٹی آئی کو پرامن احتجاج کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ انہوں نے پارٹی قیادت پر زور دیا کہ وہ صورتحال کی حساسیت کو سمجھیں اور ایسا کوئی اقدام نہ کریں جس سے وفاقی دارالحکومت میں کشیدگی پیدا ہو۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ احتجاج ہر شخص کا آئینی حق ہے، تاہم اس حق کے استعمال کے ساتھ قانون اور دیگر شہریوں کے حقوق کا احترام بھی ضروری ہے، حکومت کسی کو بھی احتجاج کی آڑ میں سرکاری املاک، شہریوں یا امن و امان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔
عطا اللہ تارڑ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری سے متعلق سوال پر کہا کہ انہیں مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا کہ ان کی سرگرمیوں سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے، انتظامیہ نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی کارروائی کی۔
پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ پارٹی میں فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے اور حکومت مذاکرات کرے تو کس سے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اندر مختلف رہنماؤں کی جانب سے مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کے لیے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ مذاکرات کے لیے باضابطہ طور پر کون بات کرے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے بیرسٹر گوہر سمیت پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے سیاسی کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان کی جماعت میں بات سننے اور فیصلہ کرنے کا طریقہ واضح نہیں، کہ چند افراد مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن عملی طور پر پارٹی کی پالیسی اور فیصلوں کا تعین کون کرتا ہے، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ حکومت ایسے افراد کے ساتھ مذاکرات کو مؤثر نہیں سمجھتی جن کے بیانات اور عملی اقدامات میں تضاد پایا جائے، سیاسی معاملات میں بات چیت کے لیے واضح مؤقف اور ذمہ دار قیادت کا موجود ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں امن و امان کے معاملے پر کسی قسم کی غفلت نہیں برتے گی۔ وفاقی دارالحکومت میں شہریوں، کاروباری سرگرمیوں اور سرکاری اداروں کے معمولات کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے انتظامیہ قانون کے مطابق اقدامات کرے گی۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن احتجاج کے دوران ریاستی قوانین، شہریوں کے حقوق اور امن و امان کی صورتحال کو ملحوظ خاطر رکھنا تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کی جانب سے دارالحکومت میں کسی بھی ممکنہ احتجاج یا سیاسی سرگرمی سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسلام آباد میں امن و امان خراب کرنے یا قانون شکنی کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت شہریوں کے تحفظ اور معمولات زندگی برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔







