ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان اور لیبیا کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ فریقین نے خصوصاً تجارت، تعلیم اور کاروباری برادری کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان لیبیا کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی روابط کو بڑھا کر باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے۔
ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ خطے اور دنیا کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے بالخصوص مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، علاقائی امن و سلامتی اور جاری بحرانوں کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔
بات چیت کے دوران توانائی کی عالمی صورتحال اور توانائی کی فراہمی سے متعلق چیلنجز بھی زیر بحث آئے۔ دونوں جانب سے اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ علاقائی کشیدگی اور عالمی بحرانوں کے باعث عالمی معیشت، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس موقع پر لیبیا کے قائم مقام وزیر خارجہ الطاہر الباعور نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مختلف علاقائی معاملات میں پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے باہمی روابط مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے کو درپیش پیچیدہ چیلنجز کا پائیدار حل طاقت یا محاذ آرائی کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان مذاکرات اور مفاہمت ہی علاقائی امن و استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ علاقائی استحکام کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی طرف واپس آنا ضروری ہے، سفارتی ذرائع کو فعال رکھنا اور بات چیت کے ذریعے اختلافات دور کرنا موجودہ صورتحال میں ناگزیر ہے۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور لیبیا کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کو مزید فروغ دیا جائے اور تجارت، تعلیم اور نجی شعبے کے روابط کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے۔
دونوں فریقوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ تھی، جہاں پاکستانی قیادت مختلف ممالک کے حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کر رہی ہے۔







