ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ محسن نقوی نے اس موقع پر پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ دوطرفہ روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور عوامی سطح پر مضبوط روابط موجود ہیں، جنہیں معاشی اور تجارتی تعاون میں مزید تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجارت، معیشت، سیاحت، سیاست، ثقافت اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود اعلیٰ سطحی رابطوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت، توانائی، سیاحت اور مشترکہ سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا، دونوں ہمسایہ ممالک اپنی علاقائی صلاحیتوں اور دستیاب وسائل سے فائدہ اٹھا کر باہمی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید اقدامات کرسکتے ہیں۔
صدر پزشکیان نے پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تجارت اور مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جانے چاہئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون میں اضافے سے سرحدی علاقوں میں بھی کاروباری سرگرمیوں اور رابطوں کو فروغ مل سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران توانائی کے شعبے میں تعاون بھی اہم موضوع رہا۔ پاکستان اور ایران ماضی میں توانائی، بجلی، سرحدی تجارت اور علاقائی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کرتے رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور عوامی روابط جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات موجود ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد موجود ہے، جس کے باعث سرحدی رابطے، تجارت اور عوامی آمد و رفت دوطرفہ تعلقات میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں اور قانونی تجارت کے فروغ کی بھی حمایت کرتا رہا ہے۔
ملاقات میں علاقائی صورتحال اور امن و استحکام سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل اور علاقائی امن کے لیے مسلسل رابطوں کی حمایت کرتا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے موجودہ تعلقات اعلیٰ سطح پر ہیں اور اسلام آباد دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تہران کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔
دونوں جانب سے اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ دوطرفہ روابط کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سیاسی قیادت، حکومتی اداروں اور کاروباری حلقوں کے درمیان رابطوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور دیگر شعبوں میں عملی پیش رفت ہوسکے۔
ملاقات کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مختلف سفارتی رابطوں میں مصروف ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد ایران سمیت خطے کے تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطوں اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے پاکستان اور ایران کے درمیان دوستانہ اور ہمسایہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔







