بلومبرگ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں رجب طیب ایردوان نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام آج کی سیاسی، معاشی اور جغرافیائی حقیقتوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، اس لیے عالمی اداروں کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ دنیا کو درپیش مسائل اب صرف چند ممالک کے فیصلوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔ وبائی امراض، توانائی کے بحران، عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں، علاقائی تنازعات اور معاشی عدم استحکام جیسے چیلنجز نے ثابت کیا ہے کہ عالمی سطح پر فیصلہ سازی کے لیے زیادہ جامع اور مؤثر نظام درکار ہے۔

رجب طیب ایردوان نے مؤقف اختیار کیا کہ سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے عالمی حالات کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ موجودہ دور کی سیاسی اور معاشی حقیقتیں اس وقت کے مقابلے میں نمایاں طور پر تبدیل ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایسا نظام درکار ہے جو زیادہ منصفانہ، نمائندہ، مؤثر اور جواب دہ ہو۔ ترک صدر نے اپنے معروف مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا 5 سے بڑی ہے‘‘، جس سے ان کی مراد سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے مقابلے میں عالمی برادری کے وسیع تر کردار کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس وقت 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا مستقل ارکان ہیں، جبکہ 10 ارکان جنرل اسمبلی کے ذریعے دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ مستقل پانچ ارکان کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ صرف سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان شامل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس صورت میں بھی فیصلہ سازی کا اختیار چند ممالک تک محدود رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

ان کے مطابق کسی ایک ملک کو مستقل بنیادوں پر عالمی برادری کی اکثریت کی رائے کو روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے، سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے موجودہ نظام پر نظرثانی اور ویٹو کے اختیار کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

رجب طیب ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے میں فیصلہ سازی کے عمل میں جنرل اسمبلی کو زیادہ مرکزی حیثیت ملنی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ ممالک عالمی معاملات پر اپنی رائے مؤثر انداز میں پیش کرسکیں۔

ترک صدر کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان کو جنرل اسمبلی کے ذریعے ایک مقررہ مدت کے لیے منتخب کیا جانا چاہیے، جبکہ دوبارہ انتخاب کے خواہشمند ممالک کو جنرل اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔

ایردوان نے کہا کہ اس طریقہ کار سے سلامتی کونسل کی نمائندگی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور مختلف خطوں کے ممالک کو عالمی امن و سلامتی سے متعلق فیصلوں میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

ترک صدر نے عالمی بحرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جنگوں، توانائی کے مسائل، عالمی معیشت، خوراک اور سپلائی چین سے متعلق بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے حل کے لیے بھی وسیع تر عالمی تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی امن، معاشی انصاف اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف خطوں کے ممالک کو مشترکہ اصولوں کی بنیاد پر زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی اصلاح کا معاملہ کئی برس سے زیر بحث ہے اور جنرل اسمبلی میں اس حوالے سے بین الحکومتی مذاکرات جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق موجودہ عمل میں سلامتی کونسل کی نمائندگی میں مساوات، ارکان کی تعداد میں اضافے اور دیگر متعلقہ معاملات پر تجاویز زیر غور ہیں۔

ویٹو کے استعمال پر بھی اقوام متحدہ میں بحث جاری رہی ہے۔ جنرل اسمبلی کے حالیہ مباحث میں متعدد ممالک نے ویٹو کے استعمال کو محدود کرنے یا سلامتی کونسل میں فیصلہ سازی کو زیادہ نمائندہ بنانے کی تجاویز پیش کی ہیں، تاہم سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے ویٹو کے معاملے پر رکن ممالک کے درمیان مختلف آرا موجود ہیں۔

رجب طیب ایردوان نے زور دیا کہ عالمی اداروں کی اصلاح کا مقصد کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جو موجودہ عالمی حقیقتوں کی بہتر نمائندگی کرے اور دنیا کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو۔

ترک صدر کے مطابق عالمی امن اور سلامتی کے فیصلوں میں زیادہ وسیع نمائندگی اور جواب دہی وقت کی ضرورت ہے، تاکہ عالمی برادری کے تمام خطوں اور ممالک کو فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر آواز مل سکے۔