امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے موجودہ مذاکرات آخری موقع ہو سکتے ہیں، جماعت اسلامی اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھے گی اور اسلام آباد مارچ سے دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پوری قوت کے ساتھ اسلام آباد پہنچے گی، جبکہ عوامی ریلیف کا فیصلہ اب وزیراعظم کے اقدامات سے مشروط ہے۔ وزیراعظم ریلیف دیتے ہیں یا نہیں، فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پی ٹی آئی سے بھی بات چیت کے لیے حکومت کو کمیٹی تشکیل دینی چاہیے اور راجہ ناصر عباس کی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی تجویز پر عمل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے۔ حکومت احتجاج روکنے کے لیے شہروں کو کنٹینرز سے نہیں بھر سکتی، جبکہ ریڈ زون اور دیگر اصطلاحات کا آئین سے کوئی تعلق نہیں۔ آئین پرامن احتجاج کا حق سب کو دیتا ہے اور ہم تمام سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی مسائل کے حل کے لیے آئین کی بالادستی ضروری ہے اور پاکستان کے 25 کروڑ عوام سب سے زیادہ اہم ہیں۔ مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقہ مہنگائی سے شدید متاثر ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر شدید تحفظات ہیں۔ پنجاب میں 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 25 ہزار اسکول آؤٹ سورس کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ پنجاب کی جامعات کو مطلوبہ گرانٹس نہیں دی جا رہیں اور تعلیمی اداروں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اپنی عیاشیاں اور مراعات کم کرنا ہوں گی۔ آئی پی پیز، چینی، آٹا اور بینکنگ شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کا بحران غریب اور مڈل کلاس عوام کی وجہ سے نہیں۔ تنخواہ دار طبقہ 700 ارب روپے ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ غریبوں اور مڈل کلاس سے پٹرولیم لیوی کی مد میں بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو بجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے کی ادائیگی کی گئی۔ پاکستان کے مسائل کے ذمہ دار چند طاقتور مفادات ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور پٹرول کی قیمت کم کرنا ہوگی۔ عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہونے کے باوجود پٹرول مہنگا کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو تین ڈالر عالمی قیمت کم ہونے کے باوجود پٹرول کی قیمت بڑھانے کی وجہ بتائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی سے ماہانہ 150 ارب روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے 26 سے 30 ارب روپے ماہانہ کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا گیا ہے۔ 150 ارب روپے کی لیوی کے مقابلے میں 26 سے 30 ارب روپے کا ریلیف ناکافی ہے اور حکومت لیوی کی مد میں ریلیف پیکج سے تقریباً چھ گنا زیادہ رقم وصول کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی ختم کیے بغیر عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکتا۔ پٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود ٹرانسپورٹ کے کرائے میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کرایوں میں 7 فیصد اضافے سے عوام مزید مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومتی ریلیف پیکج میں ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بائیک اپنے نام پر نہ رکھنے والوں کے لیے بھی ریلیف کے حصول میں مشکلات ہیں، جبکہ ڈیلرز بھی حکومتی ریلیف پیکج کے طریقہ کار سے پریشان ہیں۔ حکومتی ریلیف پیکج عوام کے مسائل کا مکمل حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہی پٹرول کی قیمت میں اضافے کا بنیادی حل ہے۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک پورے پاکستان میں جاری ہے اور 20 ستمبر سے اسلام آباد لانگ مارچ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم سے کہا گیا کہ لوگ مر رہے ہیں، ہمیں احتجاج کا کوئی شوق نہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے وطن واپسی پر ملاقات اور ریلیف کی یقین دہانی کرائی گئی، تاہم وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود جماعت اسلامی احتجاج سے دستبردار نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لانگ مارچ بھی ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی درخواست پر جماعت اسلامی ان سے ملاقات کا موقع دے گی اور وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں عوامی ریلیف کے مطالبات پیش کیے جائیں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ احتجاج سے دستبرداری کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دھرنے اور احتجاجی کیمپ بدستور جاری رہیں گے۔ وزیراعظم سے ملاقات تک کارکن عوام سے رابطہ مہم جاری رکھیں گے اور عوام سے باقاعدہ تحریری تائید حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کارکن مسلسل میدان میں موجود رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مارچ کے لیے مختلف پلان تیار کیے گئے ہیں اور اسلام آباد میں کئی مقامات سے داخل ہونے کا پلان تیار ہے۔ جماعت اسلامی کا ایجنڈا فساد یا انتشار نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت ریلیف دے گی تو مسئلہ حل ہو جائے گا، تاہم ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ جاری رکھا جائے گا۔ اکتوبر کے پہلے عشرے میں بھی لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملتان میں جماعت اسلامی کا اسلام مارچ پڑاؤ جاری رہے گا، جبکہ خیبر اور بلوچستان میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام سے بھتہ وصول کرنے کے لیے مختلف ٹیکسز عائد کیے جا رہے ہیں۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی نے ملک گیر تحریک کا آغاز کیا، کیونکہ سیاسی جماعتیں عوام کے بنیادی مسائل سے دور ہو چکی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تحریک کے دوران عوام میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ 7 اگست کو ملک بھر میں 510 مقامات پر دھرنے دیے گئے۔ احتجاج کے دوران چوراہے بند کیے گئے، تاہم ایمبولینسز کو راستہ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 16 اگست سے صوبائی ہیڈکوارٹرز پر دھرنوں کا آغاز کیا گیا اور تحریک بڑھتے بڑھتے 42 شہروں تک پہنچ گئی۔ 42 شہروں میں روزانہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد دھرنوں میں شریک ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام اور تاجروں کی حمایت سے 3 ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ احتجاج کے دباؤ پر حکومت نے مذاکرات کا آغاز کیا اور حکومت کی درخواست پر جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو بتایا گیا کہ مختلف شعبوں میں اصلاحات سے پٹرولیم لیوی ختم کی جا سکتی ہے، تاہم حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرنے سے متعلق آئی ایم ایف کے دباؤ کا مؤقف اختیار کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم نہیں ہوگی تو احتجاج بھی ختم نہیں ہوگا۔ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا، جس کے سلسلے میں کراچی سے روہڑی تک ٹرین مارچ کیا گیا اور روہڑی سے ملتان تک ٹرین مارچ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جماعت اسلامی کے قافلے کا پڑاؤ ملتان میں ہے۔ ہماری جدوجہد کا کوئی ذاتی یا جماعتی مفاد نہیں۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے، پٹرول کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مہنگائی کے باعث عام لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ 25 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے اور پٹرولیم لیوی کا خاتمہ عوام کا بنیادی مطالبہ ہے۔