جماعت اسلامی کے مذاکراتی وفد کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کریں گے، جبکہ وفد میں سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان، ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ اور نوید علی بیگ شامل ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کریں گے۔ حکومتی وفد میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی شامل ہیں
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا سلسلہ 7 ستمبر سے شروع ہوا تھا۔ پہلے مرحلے میں جماعت اسلامی نے لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے سے متعلق اپنی تجاویز حکومت کے سامنے پیش کی تھیں، جبکہ حکومت نے ان تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے مزید مشاورت کی
گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی جانب سے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کے لیے اعلان کردہ فیول ریلیف اسکیم کو پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا متبادل ماننے سے انکار کردیا تھا۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ عوام کو مستقل ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ضروری ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ساتھ ملک بھر میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی دھرنے بھی جاری رہیں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کر رکھا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 20 ستمبر کو کارکنان اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے اسلام آباد مارچ کے اعلان کے بعد آج کے مذاکرات کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ فریقین کے درمیان بات چیت کے باوجود پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے بنیادی مطالبے پر اب تک حتمی اتفاق نہیں ہوسکا۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی نے اس معاملے پر اپنے مطالبات برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر حکومت کا مؤقف ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے قابلِ عمل تجاویز پر غور کیا جارہا ہے۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، توانائی کے شعبے اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آچکے ہیں
مذاکرات کے چوتھے دور میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، عوام کو ریلیف دینے کے ممکنہ طریقہ کار اور جماعت اسلامی کی تجاویز پر مزید بات چیت متوقع ہے، جبکہ دوسری جانب 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے اعلان کے باعث حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔







