چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کی جانب سے نجی اسپتال میں علاج کی سہولت کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے سابقہ حکم اور قیدیوں کے مساوی حقوق سمیت مختلف آئینی و قانونی نکات زیرِ بحث آئے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی سوالات کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے انہیں تحریری حکم کا حصہ بنایا۔ ان سوالات میں بنیادی حقوق کے نفاذ کا اختیار رکھنے والی عدالت، قیدیوں کو آئین اور پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت حاصل حقوق، قیدیوں کے بنیادی حقوق سے متعلق ریاست کی ذمہ داریوں اور کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے ان حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں پیدا ہونے والے قانونی نتائج سے متعلق نکات شامل ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی سے متعلق مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کیا ہے۔ اس کے علاوہ توہینِ عدالت، اسپتال منتقلی اور حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست سے متعلق ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔

عدالت نے تمام ہائیکورٹس کو بھی ہدایت کی ہے کہ اگر کسی عدالت میں قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے، نجی اسپتال منتقل کرنے یا اسی نوعیت کے کسی معاملے سے متعلق مقدمہ زیرِ سماعت ہے تو اس کا مکمل ریکارڈ وفاقی آئینی عدالت کو بھجوایا جائے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے بانی پی ٹی آئی کو دی گئی طبی سہولت کی بنیاد پر نجی اسپتال میں علاج کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد دیگر قیدیوں نے بھی اسی نوعیت کی سہولت کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بعد ازاں قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق درخواستیں مسترد کردی تھیں، جس کے خلاف معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں پہنچا۔ سماعت کے دوران عدالت میں یہ سوال بھی زیرِ بحث آیا کہ قیدیوں کے علاج سے متعلق جیل قوانین میں موجود طریقہ کار اور بنیادی حقوق کے آئینی تحفظ کے درمیان قانونی دائرہ کار کیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں اختیارِ سماعت اور آئینی تشریح سے متعلق نکات پر بھی غور کیا۔

عدالت کی جانب سے ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد اب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس سے موصول ہونے والے مقدمات کے ریکارڈ کی روشنی میں قیدیوں کے طبی علاج، نجی اسپتال منتقلی اور بنیادی حقوق سے متعلق آئینی و قانونی سوالات کا جائزہ لیا جائے گا۔