اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یمن کی صورتحال انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور موجودہ کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میزائل اور ڈرون حملے نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان کے نتیجے میں پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تحت سعودی عرب کے اپنے شہریوں، رہائشیوں اور قومی تنصیبات کے دفاع کے جائز حق کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوثی حملوں کا دائرہ بحیرہ احمر اور باب المندب تک پھیلنا بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ اہم بحری گزرگاہوں میں کشیدگی سے عالمی تجارت، تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
عاصم افتخار احمد کے مطابق بحری راستوں کو خطرے میں ڈالنے یا انہیں تنازع کا حصہ بنانے کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس لیے بین الاقوامی برادری کو صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ یمن میں گزشتہ چند برسوں کے دوران قائم ہونے والا نسبتاً پُرسکون ماحول دوبارہ شدید کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے، اپریل 2022 کی اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد حاصل ہونے والے امن کے محدود فوائد کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف محاذوں پر لڑائی میں اضافہ اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں سے یمن میں دوبارہ وسیع پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ مسلسل کشیدگی پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی کے باعث عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور انسانی امداد کی فراہمی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یمن میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے یمن کے بحران کے مستقل حل کے لیے فوجی کشیدگی کے بجائے سفارتی اور سیاسی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی، یمن کی قیادت میں ایک جامع سیاسی عمل بحال کیا جانا چاہیے، جبکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سیاسی تصفیے کے لیے مخلصانہ کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یمن کے بحران کا پائیدار حل جامع سیاسی تصفیے کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو نہ صرف یمن میں امن بحال کرسکتا ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یمن میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات بحال کرنے اور ایک جامع سیاسی حل کے لیے ہونے والی سنجیدہ سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
عاصم افتخار احمد نے باب المندب اور بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو عالمی تجارت کے لیے بھی اہم خطرہ قرار دیا، یہ خطہ بین الاقوامی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ یمن کے بحران کو مزید وسیع ہونے سے روکنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات ضروری ہیں اور تمام فریقوں کو کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
یمن کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ایسے وقت ہوا ہے جب حوثیوں کے سعودی عرب کے خلاف حملوں اور بحیرہ احمر کے علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے علاقائی سلامتی اور عالمی بحری تجارت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔







