امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مستقبل کے حالات کے بارے میں یقین سے پیشگوئی نہیں کی جاسکتی، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ بات درست ہے کہ چند ماہ بعد تنازع کی نوعیت موجودہ صورتحال سے کافی مختلف ہوسکتی ہے۔
جے ڈی وینس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو دو بڑے مراحل میں دیکھا جارہا ہے، پہلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام، روایتی فوجی صلاحیت اور طاقت کے اظہار کی صلاحیت کو نقصان پہنچانا شامل تھا، جسے امریکی انتظامیہ مکمل قرار دے رہی ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ اب توجہ دوسرے مرحلے پر مرکوز ہوگی، جس کا مقصد ایران کو اپنی جوہری اور فوجی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے سے روکنا اور خطے میں مزید عدم استحکام کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے بعد آئندہ مرحلے میں اس بات پر توجہ دی جائے گی کہ تہران ماضی کی صلاحیتوں کو دوبارہ حاصل نہ کرسکے،اس عمل کے ساتھ خطے میں وسیع تر استحکام برقرار رکھنے کی کوشش بھی جاری رہے گی۔
جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ ہی بطور کمانڈر اِن چیف اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ تنازع کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوگا، موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی آمدورفت بھی پہلے کے مقابلے میں بحال ہوئی ہے، تاہم سمندری نقل و حرکت اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں، اقتصادی دباؤ اور خطے میں بحری سلامتی سے متعلق اقدامات جاری رکھنے کی بات سامنے آتی رہی ہے۔ جے ڈی وینس اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ تنازع کے خاتمے کے لیے حتمی ٹائم لائن دینا ممکن نہیں، جبکہ حالیہ بیان میں انہوں نے آنے والے چند ماہ کو جنگ کی سمت میں تبدیلی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر خلیج میں تجارتی بحری راستوں، توانائی کی ترسیل اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ رہا ہے۔ امریکی نائب صدر کے تازہ بیان کے بعد یہ واضح ہے کہ واشنگٹن کی توجہ صرف موجودہ فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ ایران کی مستقبل کی عسکری اور جوہری صلاحیتوں کو محدود رکھنے پر بھی مرکوز ہے۔







